اللہ نذر کی فیملی کو رہا کرو۔ یہ ٹاپ ٹرینڈ کئی دن سوشل میڈیا پر دھوم سے چلا اور بالآخر اسکی فیملی کو ڈھونڈ لیا گیا۔آج اسی اللہ نذر کے دوست قاتل درندوں نے 15 پنجابی مزدوروں کو ابدی نیند سلا دیا۔ اس وقت پندرہ خاندانوں میں ماتم کا سماں ہے۔ مرنے والوں کا صرف ایک ہی جرم تھا کہ وہ پنجابی تھے۔ یہ کیسی آزادی کی طلب ہے، یہ کیسا انتقام ہے؟آپ کی گولی وردی سے دور بھاگتی ہے، آپ کی بندوق کی نالی طاقتور کے سامنے ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور اسکا انتقام صرف مزدور طبقے سے؟کیا یہ آپ لوگوں کی خود ساختہ حریت پسندی پر طمانچہ نہیں ہے؟ آپ کہتے ہو پنجابی غاصب ہے، پنجابی لٹیرا ہے، پنجابی اکڑا ہوا ہے۔اگر پنجابی غاصب ہوتا تو کب کے پنجاب میں رہنے والے بلوچی مارے جا چکے ہو تے، پنجابی اگر لٹیرا ہوتا تو اس کے یہ غریب مزدور لوگ بلوچ پہاڑیوں پر مزدوری کرنے نہ آتے اور پنجابی متکبر ہوتا تو کبھی بھی اپنے حصے کا ریوینیو آپ کو نہ دیتا اور نہ ہی اقتصادی ترقی کے روٹ بنواتا۔مجھے بطور پنجابی رنج ہے،بطور پاکستانی تشویش ہے۔ میرا دیس کدھر جارہا ہے۔ یہ پندرہ پنجابیوں کا قتل نہیں ہے، یہ پاکستانیوں کا قتل ہے۔ اب ان بلوچ سرداروں کی اصل حقیقت بھی عیاں ہو گی جو ناانصافی کی بات کرتے ہیں ۔کیا وہ اس بربریت کی مذمت بھی کریں گے؟کہاں ہے اختر مینگل، کہاں ہے وزارت اعلی کا امیدوار مری قبیلہ، کہاں ہے جمہوری وطن پارٹی والے؟کہاں ہے لیفٹ کا داعی مکتبہ فکر، جنہوں نے اللہ نذر کے خاندان کی بازیابی کے لیے زمین آسمان ایک کیے ہوا تھا۔#شعور_بندگی
محمود شفیع بھٹی