یہ واقعہ بھی عجب میری زندگی کا تھا
میں چاہتا تھا اسے اور وہ کسی کا تھا

کسی نے توڑ دیا میرا آشیان خواب

مجھے بھی زعم بہت اپنی عاشقی کا تھا


 


تب اپنی وحشتِ جاں پر ہوا بہت افسوس

جو یہ سنا کہ اسے شوق دل لگی کا تھا

نہ میری ذات سے مطلب نہ میرے درد سے کام

وہ معترف تو فقط میری شاعری کا تھا