کٹھن تھا محبت کا سفر آساں نہیں تھا
پر تو سنگ تھا تو یوں ہراساں نہیں تھا
کو بہ کو ہو رہی تھی تری آگہی جہاں
ان کوچوں میں میرا آشیاں نہیں تھا
پناہ ملی بھی تو ملی کوہ اغیار میں
جہاں دم نکلا وہ بھی کوچہ جاناں نہیں تھا
جب مسافت کو بے بس کرنا تھا مسافرت کے سامنے
میں تنہا تھا میرے ساتھ کوئی کارواں نہیں تھا
ہم خاموش تھے کے کہیں تو رسوا نہ ہو جائے
اور تو سمجھا کے میں با زباں نہیں تھا
اپنی ہی محفل میں آ کر یہ گماں ہوا مجھکو
میں خود مہماں تھا میزباں نہیں تھا
پھیل گئی جب تیرگی ماضی ہر سو
مستقبل کیا حال بھی درخشاں نہیں تھا
اپنے عشق سے تو نے مجھے آراستہ کردیا
یوں لگتا ہے یہ کھنڈر کبھی بیاباں نہیں تھا
کتنی تفریق کر دی ہے عمر کے ریاض نے عارف ضیا
جبکہ خلقت میں کوئی تجھ سے گراں نہیں تھا