نہ تیرا خدا کویی اور ہے

نہ میرا خدا کویی اور ہے

یہ جو راستے ہیں جدا جدا

یہ معاملہ کویی اور ہے



کیوں نہیں دیکھتا جہاں میں

ہر شے لا زوال ہے

جب اٹھی نظر تو جھک گیی

یہ معاملہ کچھ اور ہے



یہ پہاڑ، درخت اور کاینات

جب جھکے ہیں سجود پہ

نہ تو بن سکا نہ بنا سکا

وہ پھر بھی نہ تجھ سے جدا ہوا

یہ سب اسی کے ہیں فیصلے

تو جان کر بھی انجان ہے



کیوں شرک میں ہے تو پسا ہوا

کویی دور سے تو دور ہے

کیوں گھومتا ہے یہاں وہاں

نہیں الا کویی اور ہے



نہ تیرا خدا کویی اور ہے

نہ میرا خدا کویی اور ہے

یہ جو راستے ہیں جدا جدا

یہ معاملہ کویی اور ہے



جسے ڈھونڈھتا ہے یہاں وہاں

دل میں تیرے موجود ہے

جسے مل گیا اک بار وہ


 


اسی دل میں اسروجود ہے



جو پڑھا دیا انساں کو

رحمان ہے رحیم ہے

جب پاس تھی تو کتاب تھی

پڑھا دیا تو قرآن ہے



پھر عبادتوں کے یہ سلسلے

پھر کربتوں کے دور ہیں


نہ تیرا خدا کویی اور ہے

نہ میرا خدا کویی اور ہے

یہ جو راستے ہیں جدا جدا

یہ معاملہ کویی اور ہے