خواہشوں کے جنگل میں یوں بھٹکتے رہنے سے


 


منزلیں نہیں ملتیں
کچھ خزائیں ایسی ہیں آکے گر ٹھہر جائیں
پھر کلی نہیں کھِلتی
داستاں سنانے سے خود پہ مسکرانے سے
وحشتیں نہیں مِٹتی
گر کوئی بھٹک جائے ان سراب رستوں میں خضر سے ملانے کو
پھر گلی نہیں مِلتی
حبس کا کوئی موسم دل میں جب اتر آئے تو اسے مٹانے کو
پھر صبا نہیں چلتی
عشق دل میں بس جائے یا کسی میں جگ جائے یہ اگن محبت کی
پھر کبھی نہیں بجھتی
زندگی حقیقت ہے خواب کے جھروکوں سے
زندگی نہیں دِکھتی