مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں
سایے بھی راستے کی دیوار ہوا کرتے ہیں

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو، کبھی آنکھوں بھی پڑھوں
کچھ سوالی بڑے خود دار ہوا کرتے ہیں