حقیقتوں پر ہے دنیا کو اعتراز بہت
کہ ہے مزاج دنیا فسانہ ساز بہت

تیرا غرور عبادت تجھے نہ لے ڈوبے
سنا ہے پڑھتا تھا ابلیس بھی نماز بہت

یہ کہ رہے تھے کل اوارگان کوچہ یار
اداییں آج بھی ہیں اس کی دلنواز بہت

انہیں شعور محبت نہیں خدا کی قسم
جو لوگ ہیں تیری محفل میں سرفراز بہت


 


میری خوشی کا زمانہ ہوا کا جھونکا تھا
میرے غموں کی رہی زندگی دراز بہت