میری ماں مر رہی ہے جلدی مدد کرو‘ سوات میں معصوم بچی کی چیخ و پکار
ـ 5 گھنٹے 55 منٹ پہلے شائع کی گئی مردان + مینگورہ (نیٹ نیوز + ریڈیو نیوز + نیوز ایجنسیاں) فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد تاحال محصور ہیں۔ جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ مسلسل کرفیو اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے علاقہ میں غذائی اجناس کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور ان کا رابطہ بھی بیرونی دنیا سے منقطع ہے جبکہ عزیزوں اور بچوں کو کھونے والے کیمپوں میں غم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ متاثرہ افراد کی دکھ بھری داستانوں نے مقامی لوگوں کو بھی رلا دیا۔ دوسری جانب ریلیف کیمپوں میں صفائی و ستھرائی کے ناقص انتظامات‘ شدید گرمی‘ صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہیضے سمیت دیگر وبائی امراض تیزی سے پھیل رہی ہیں جبکہ وزیرستان میں بھی ممکنہ آپریشن کی وجہ سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق بمباری کے باعث عام شہریوں کیلئے نقل مکانی بہت دشوار ہو گئی ہے۔ سوات کے دور افتادہ علاقہ میاندم میں تاحال 80 ہزار سے زائد افراد پھنسے ہوئے ہیں غذائی اجناس اور آٹے کی قلت کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ شخص نے بتایا کہ وہ مینگوہ سے مٹہ آ رہا تھا کہ ایک گلی میں بچی چیخ رہی تھی کہ میری مدد کرو‘ میں گھر میں داخل ہوا تو اندر تین خواتین آخری سانس لے رہی تھیں۔ ہم نے نعشیں نکالیں اور چادریں ڈال کر گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ کر کرفیو کی وجہ سے باہر نکل آئے اس طرح جلالہ کیمپ میں ایک خاتون جلدی سے گھر میں بھاگتے ہوئے جلدی میں کمبل میں لپیٹ کر بچے کو لے آئی جب کافی دور بھاگ کر باہر آئی تو دیکھا کہ کمبل میں بچہ موجود نہیں تھا اور وہ بچے کے غم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ کیمپ میں موجودہ سرفراز نے بتایا کہ وہ والدہ اور 15 دنوں کے شیرخوار بچے کے ہمراہ 37 کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے کیمپ میں آئے ایک اور خاندان نے بتایا کہ وہ جلدی میں گھر سے نکلے اور اپنی معذور بچی گھر بھول گئے۔ ادھر کیمپوں میں متاثرین کو کیمپوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹینٹوں میں متاثرین تاحال پنکھے فراہم نہیں کئے گئے متاثرین صبح سے شام تک اپنے پیاروں اور اہلخانہ کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ مختلف اداروں کے نمائندے اور شخصیات ٹرکوں پر امدادی اشیا کے ہمراہ امدادی کیمپوں میں آ کر فوٹو سیشن کرنے کے بعد چلے جاتے ہیں اور یہ پتہ نہیں چلاتے کہ سامان متاثرین تک پہنچا ہے یا نہیں۔ دریں اثناء سرحد کے وزیر اطلاعات افتخار حسین نے بتایا کہ وزیرستان سے قریبی اضلاع بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں لوگ آنے شروع ہو گئے اور تقریباً 10 ہزار سے زائد لوگ ان علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔