Results 1 to 3 of 3

Thread: How few words of a clerk ruined her life - read her full story

  1. #1
    Administrator Array admin's Avatar
    Join Date
    Nov 2006
    Location
    Khanewal
    Posts
    10,442
    Country: Pakistan
    Rep Power
    10

    How few words of a clerk ruined her life - read her full story

    Name:  sad story.jpg
Views: 960
Size:  16.6 KB

    آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی کی ایک طالبہ، وجیہہ عروج، نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ کیس کیا۔ انہیں ایک پرچے میں غیر حاضر قرار دیا گیا تھا جبکہ وہ اس دن پرچہ دے کر آئیں تھیں۔ یہ صاف صاف ایک کلرک کی غلطی تھی۔



    وجیہہ اپنے والد کے ہمراہ ڈپارٹمنٹ پہنچیں تاکہ معاملہ حل کر سکیں۔ وہاں موجود ایک کلرک نے ان کے والد سے کہاآپ کو کیا پتہ آپ کی بیٹی پیپر کے بہانے کہاں جاتی ہے۔ یہ جملہ وجیہہ پر پہاڑ بن کر گرا۔ وہ کبھی کلرک کی شکل دیکھتیں تو کبھی اپنے والد کی۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کریں۔ وہ اپنے ہی گھر والوں کے سامنے چور بن گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ بھی انہیں عجیب نظروں سے دیکھنا شروع ہو گئیں تھیں۔


    کیا ہی اچھا ہوتا کہ کلرک صرف اپنے کام سے کام رکھتا۔ وجیہہ کے بارے میں اپنی رائے دینے کی بجائے وہ حاضری رجسٹر چیک کرتا یا اس دن کے پرچوں میں ان کا پرچہ ڈھونڈتا۔ لیکن اس نے اپنے کام کی بجائے وجیہہ کے بارے میں رائے دینا زیادہ ضروری سمجھا، یہ سوچے بغیر کہ اس کا یہ جملہ وجیہہ کی زندگی کس قدر متاثر کر سکتا ہے۔


    وجیہہ نے یونیورسٹی پر کیس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کیس میں ان کا ساتھ ان کے والد نے دیا۔ کیس درج ہونے کے چار ماہ بعد یونیورسٹی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عدالت میں ان کا حل شدہ پرچہ پیش کر دیا لیکن معاملہ اب ایک ڈگری سے کہیں بڑھ کر تھا۔ وجیہہ نے یونیورسٹی سے اپنے کردار پر لگے دھبے کا جواب مانگا۔ یہ قانونی جنگ 17 سال چلتی رہی۔ گذشتہ سال عدالت نے وجیہہ کے حق میں فیصلہ سنایا اور یونیورسٹی کو آٹھ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔


    وجیہہ نے اس ایک جملے کا بھار17 سال تک اٹھایا۔ وہ تو جی دار تھیں، معاملہ عدالت تک لے گئیں۔ ہر لڑکی ایسا نہیں کر سکتی۔ خاندان کی عزت ان کے بڑھتے قدم تھام لیتی ہے ورنہ یقین مانیں ہم میں سے ہر کوئی عدالت کے چکر کاٹتا پھرے اور اپنے منہ سے کسی لڑکی کے بارے میں نکلے ایک ایک جملے کی وضاحت دیتا پھرے۔


    وجیہہ کے والدین نے ان کی ڈگری مکمل ہوتے ہی ان کی شادی کر دی۔ انہیں ڈر تھا کہ بات مزید پھیلی تو کہیں وجیہہ کے رشتے آنا ہی بند نہ ہو جائیں۔ وجیہہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں لیکن اس ایک جملے کی وجہ سے انہیں وہ سب نہیں کرنے دیا گیا۔ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں لیکن ان کے دل میں کچھ نہ کر پانے کی کسک بھی موجود ہے۔


    یہ مکمل تحریر انڈپینڈنٹ اردو میں 6 نومبر 2019 کو شائع ہوئی جس کا کچھ حصہ یہاں بیان کیا گیا ۔







  2. #2
    Junior Member Array
    Join Date
    Sep 2019
    Posts
    6
    Country: Pakistan
    Rep Power
    0
    Kisi na sahi kaha hay k Words are more dangerous than swords and guns. per hum log to itnay serkash ho gaye han k in baton ka khayaal bhi nahi rakhty. I really feel bad for her


  3. #3
    Junior Member Array
    Join Date
    Jan 2020
    Posts
    4
    Country: Aaland
    Rep Power
    0

    Free Stuff

    This post is useful and motivating. Keep uploading these types of stories.

    Valid Visa Credit Card Generator

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)







Similar Threads

  1. A story..... must read
    By Tahir Bati in forum Jokes
    Replies: 1
    Last Post: 06-18-2016, 05:00 PM
  2. The ability of brain to read words
    By asef_pk in forum Knowledge Sharing
    Replies: 0
    Last Post: 09-17-2012, 10:59 AM
  3. PRICELESS WORDS Very interesting please do read
    By chinky2121 in forum Inspirations
    Replies: 1
    Last Post: 01-25-2010, 07:12 PM
  4. Golden Words Please Read It
    By hunainraza in forum Jokes
    Replies: 13
    Last Post: 08-15-2009, 04:28 PM
  5. One Nice LIFE story - Must Read
    By lovely angel in forum Inspirations
    Replies: 2
    Last Post: 03-19-2008, 06:37 AM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •