ڈرتا ہوں موت سے مگر مرنا ضرور ہے
لرزتا ہوں کفن سے مگر پہننا ضرور ہے
ہو جاتا ہوں غمگین جنازے کو دیکھ کر
لیکن میرا جنازہ بھی اٹھنا ضرور ہے
ہوتی ہے بڑی کپکپی قبروں کو دیکھ کر
پر مدتوں اس قبر میں رہنا ضرور ہے
موت کی آغوش میں جس دن ہمیں سونا ہوگا
نا کوئی تکیہ نا کوئی بچھونا ہو گا
ساتھ ہونگے ہمارے اعمال اور
قبرستان کا چھوٹا سا کونا ہو گا
دُنیا تو میرے دل کو لبھاتی ہے صبح وشام
پر سچ ہے اس کو چھوڑ کے جانا ضرور ہے