اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
تجھ سے کافر کو تو میں اپنا خدا دے دوں گا
جستجو بھی مرا فن ہے ، مرے بچھڑے ہوئے دوست
جو بھی در بند ملا ، اس پہ صدا دے دوں گا
اک پل بھی ترے پہلو میں جو ملے ، تو میں
اپنے اشکوں سے اسے آبِ بقا دے دوں گا
رخ بدل دوں گا صبا کا ، ترے کوچے کی طرف
اور طوفان کو اپنا ہی پتہ دے دوں گا
احمد ندیم قاسمی