غزل
اک تصور تھا جو محفوظ تھا خوابوں میں میرے
اک خوشبو تھی جو دل و جاں میں بسی ر ہتی تھی


عشق سنتے تھے ہم وہ یہی ہے شا ئد
خود بخود دل میں ہےاک شخص سما یا جا تا


لاکھھ روکا پروانے کو رو رو کر شمع نے
پا س میرے نہ آ جل جا ۓ گا د یوا نے تو


کچھہ بھی کہنا اسےثا بت ہوا ہے بے سود
وہ تو شمع کا پروانہ ہے روکے نہ رک پا تا


رات میں دور تک پھیلے ہو ۓ ہیں سنا ٹے
اتنی خا موشی اور سنسنا تی ہو ئی ہوائیں


 



وہ تو تیرا تصور سا تھہ میں تھا ورنہ
میں تو اپنے ہی سا ئے سے گھبرا جا تا


ہم رہے گم ماضی میںحال کی خبر نہ لی رابی
پچھلے تجر با ت تھے تلخ اتنے سن کر جنہیں مستقبل تھرا جا تا