بابا ، آپ سے ایک گلہ ہے
خط تو آپکے اچهے ہیں سب
آپکے ہاتھوں کی خوشبو هے
پر، میں ان کو پڑهتی ہوں جب
هو جاتا ہے دل کیوں بوجهل
آنکھیں کیوں دهندلا جاتی ہیں
پهندا سا اک لگ جاتا ہے
آپکو کچھ معلوم هے بابا
ایسا کیوں ہوتا ہے بابا .
..........بابا آپ سے ایک گلہ ہے
دھیمے دھیمے سے لہجے میں
آپ تو بات کیا کرتے تھے
ساری دنیا چهوڑ کے، بابا
میری بات سنا کرتے تھے.
اب میں بات سنا کرتی ہوں
کم کم بات کیا کرتی ہوں
جب بھی کوئی اونچا بولے
ڈر جاتی ہوں بیحد بابا ?
...........بابا آپ سے ایک گلہ ہے

میرے موتیا اور چنبیلی
خوشبو آج بھی دیتے ہوں گے
اماں ہار پروتی ہوں گی
چهپ چهپ کے وه روتی ہوں گی
منظر سارے پیار کے بابا
میرے ساتھ رہا کرتے ہیں
بهیا میرے کان میں آ کر
اب تو روز کہا کرتے ہیں
سب سے اچھی میری بہنا
خوش خوش اپنے گھر میں رہنا
...........بابا آپ سے ایک گلہ ہے.

مجھ کو سب سکهلایا بابا
رشتے ناطے ساتھ نبهانا
اونچے نیچے سب رستوں پر
چلتے جانا بڑهتے جاتا
دل کا حال نہیں کہتی ہوں
سب کچھ سہ کرچپ رہتی ہوں
لیکن اپنے پیاروں کے بن
ہر پل ہر دم خوش خوش رہنا
یہ کیوں نہ سکهلایا بابا
...........بابا آپ سے ایک گلہ ہے. ..........بابا آپ سے ایک گلہ ہے.

فاطمہ نجیب.