Results 1 to 1 of 1

Thread: محاصرہ

  1. #1
    Member Array carefree's Avatar
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    3,505
    Country: Canada
    Rep Power
    9

    محاصرہ

    محاصرہمیرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے
    کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اس کے
    فصیلِ شہر کے ہر برج ہر منارے پر
    کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اس کے
    وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
    وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
    بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں
    وہ جوئے آب، جو میری گلی کو آتی تھی
    سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
    سپردار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
    تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ و امام
    امیدِ لطف پہ ایوانِ کج نگاہ میں ہیں
    معززیںِ عدالت حلف اٹھانے کو
    مثالِ سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
    تم اہلِ حرف کے پندار کے ثناگر تھے
    وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
    بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
    گدا گرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
    قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
    تمھارے ساتھ ہے کون، آس پاس تو دیکھو
    سو شرط یہ ہے کہ جو جاں کی اماں چاہتے ہو
    تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
    وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
    بس ایک تم ہو، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
    یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا
    اُسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
    کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
    تو صبح اِک نیا سورج تراش لاتی ہے
    سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے
    کہ مجھ کو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
    اسے ہے سطوتِ شمشیر پر گھمنڈ بہت
    اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ
    مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
    جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
    مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
    جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
    مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
    جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
    مرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق
    جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
    مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
    جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
    مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
    جو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہے
    مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    مرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
    اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے
    میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے
    کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
    تمام عمر کی ایزا نصیبیوں کی قسم
    مرے قلم کا سفر رائگاں نہ جائے گا

    احمد فراز






     
    Last edited by carefree; 06-22-2016 at 07:31 AM.



Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)







Similar Threads

  1. Replies: 0
    Last Post: 06-08-2015, 07:14 AM
  2. Replies: 0
    Last Post: 04-22-2015, 08:02 AM
  3. Replies: 0
    Last Post: 05-14-2014, 08:22 PM
  4. Replies: 0
    Last Post: 01-23-2014, 04:01 PM
  5. Replies: 0
    Last Post: 09-04-2013, 03:52 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  



Get Daily Forum Updates

Get Most Amazing E-mails Daily
Full of amazing emails daily in your inbox
Join Nidokidos E-mail Magazine
Join Nidokidos Official Page on Facebook


Like us on Facebook | Get Website Updates | Get our E-Magazine