Name:  13221616_974619902652351_119506453688501918_n.jpg
Views: 168
Size:  51.2 KB

میں جب بھی ایپل کمپیوٹرز کا لوگو ایک طرف سے کھایا ہوا سیب دیکھتا ہوں تو مجھے ایلن ٹورنگ یاد آتا ہے۔ حالانکہ اس کا اس لوگو سے کوئی تعلق نہیں۔ سٹیو جاب نے ایک بار کہا تھا کہ کاش ایسا ہوتا کہ ہمارے لوگو کے ساتھ اس کا نام جڑا ہوتا۔
ایلن ٹورنگ (23جون 1912ء ۔ 7 جون 1954) برطانوی ریاضی دان ، منطقی ، فلسفی، کمپیوٹر سائنس دان اور کریپٹو انالسٹ تھا۔ اس نے کمپیوٹر سائنس میں الوگریدم اور کمپیوٹیشن میں اپنے کام کی بدولت اہمیت حاصل کی تھی۔ اس کی بنائی ٹورنگ مشین آج کے عمومی کمپیوٹر کی ابتدائی شکل تھی۔ اس نے بومبی نامی پولش الیکٹرومکینیکل مشین میں ترامیم کیں۔ بعد میں اس نے اینگما مشین کی شکل اختیار کی۔ وہ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی حکومت کے لئے جرمن حکومت کے پیغاموں کو بھی ڈی کوڈ کرتا تھا۔ جنگ کے بعد اس نے ایسا کمپیوٹر بنانے پر کام شروع کیا جو اپنے اندر معلومات کو محفوظ بھی رکھ سکے۔ بعد ازاں وہ مشہور زمانہ مانچسٹر کمپیوٹرز بنانے والی ٹیم میں بھی شامل رہا۔ اس نے ریاضیاتی حیاتیات کے علم کی بھی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1951ء میں وہ رائل سوسائٹی کا رکن منتخب ہوا۔
1952ء میں اس پر پبلک جگہوں پر کھلے عام بیہودگی کا الزام لگا۔ پہلے تو اس کے وکیل نے اس کا دفاع کیا لیکن بعد میں اسے مشورہ دیا کہ وہ الزام قبول کر لے۔ وکیلوں کے قانونی داﺅ پیچ اس کی سمجھ سے باہر تھے چنانچہ اس نے اپنے وکیل کے کہے پر عمل کیا اور الزام قبول کر لیا۔ سزا کے طور پر اسے دوراستوں میں سے ایک کا چناﺅ کرنا تھا: قید قبول کرے یا پھر نامرد کر دئیے جانے کے لئے ٹیکے لگوائے۔ اس کے وکیل نے اسے قید سے بچانے کے لئے اس سے دوسری آپشن قبول کروائی۔ یہ قانونی لڑائی دو سال تک جاری رہی۔
اس دوران اسے سرکاری سطح پر اور عوام میں جس خفت اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان تمام جگہوں پر اس کا داخلہ بند کر دیا گیا جہاں کمپیوٹر کی تحقیق کا کام ہو رہا تھا یا جہاں خفیہ پیغامات کو ڈی کوڈ کیا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہیں تھیں جہاں اس کی قدر ومنزلت کسی گرو سے کم نہ تھی۔ وہ جہاں سے گزرتا لوگ اس پر آوازے کستے۔ کمپیوٹر سائنس اور دوسرے علوم کی اطلاقیات میں مزید دریافتیں کرنے کے اس کے سب خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔
1954ء میں 41 برس کی عمر میں اس نے اپنی بیالیسویں سالگرہ سے سولہ دن قبل سیب پر سائینائڈ کا زہر لگایا اور اسے کھا کر اس خفت اور ہزیمت سے جان چھڑائی جسے وہ دو سال سے برداشت کر رہا تھا۔
ویسے تو عوام نے اسے پہلے ہی عزت دے دی تھی اور ٹائمز رسالے نے اسے 1999ء میں اس صدی کی سو اہم ترین شخصیات میں شامل کر دیا تھا لیکن اس کی جگ ہنسائی اور سزا کے خلاف چلنے والی تحریک کے نتیجے میں 10 ستمبر 2009ء کو برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براﺅن نے ایلن ٹورنگ کے ساتھ ہوئی زیادتی کے حوالے سے سرکاری طور پر عوام سے معافی مانگی ۔ اس کے تمام اعزازات بحال کر دئیے گئے
برطانیہ کے سرکاری بنک نے اس کی تصویر دس پونڈ کے نوٹ پر چھاپی، یونیورسٹیوں ، ریسرچ سنٹرز اور پبلک جگہوں پر اس کے مجسمے ایستادہ کئے گئے، اسے برطانیہ کا سب سے بڑا کوڈ بریکر کا خطاب بھی دیا گیا۔ ملکہ برطانیہ نے اس کی سزا کو بھی 23 دسمبر 2013ء کو معاف کر دیا۔