امریکہ (اور یقینناً دوسرے مغربی ممالک) میں پراپرٹی کی قیمت یا گھروں کے کرایوں میں جو فیکٹر سب سے اہم کردار ادا کرتا ھے وہ ھے لوکیشن۔ لوکیشن کا مطلب یہ نہیں کہ گھر کے پاس رنگ روڈ ھے یا انڈرپاس۔ لوکیشن کا مطلب یہ ھے کہ اس علاقے میں کتنے پبلک سکولز قائم ہیں۔
پبلک سکول میں داخلے کا معیار آپ کی رہائش کی لوکیشن پر ہوتا ھے۔ جس علاقے میں آپ رہتے ہیں، اس علاقے میں واقع پبلک سکولز آپ کو داخلہ دینے کے پابند ہونگے۔ یہی وجہ ھے کہ ایسے پبلک سکولز جہاں سے مشہور شخصیات پڑھی ہوتی ہیں، وہاں کے علاقے میں لوگ اپنی رہائش رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے کی پراپرٹی کے ریٹس بڑھ جاتے ہیں۔
امریکہ میں پبلک یعنی سرکاری سکولز مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ان سکولوں میں امریکی شہریوں کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کے بچے بھی بالکل مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے برعکس امریکی پبلک سکولز کا معیار بہت بلند ہوتا ھے اور یہی وجہ ھے کہ امیر اور غریب، صنعتکار اور مزدور، سب کے بچے ایک جیسے سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ ان پبلک سکولوں کے اخراجات اس ٹیکس سے ادا ہوتے ہیں جو وہاں کی عوام اپنی حکومت کو دیتی ھے اور حکومت بھی اس ٹیکس کو ایک امانت سمجھتے ہوئے تعلیم پر خرچ کرتی ھے۔
پنجاب کے دل لاہور میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں سڑک کے ایک طرف مہنگے ترین پرائیویٹ سکولز قائم ہیں اور سڑک کے دوسری طرف خستہ حال سرکاری سکولز۔ اگر کبھی صبح یا دوپیر کو ایسے مقامات سے گزرنے کا اتفاق ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایک طرف لگژری ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں ڈرائیورز کے ہمراہ صاف ستھرا یونیفارم پہنے بچے اپنی گاڑیوں سے اترتے ہیں تو سڑک کے دوسری طرف کم سن بچے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، پھٹے پرانے یونیفارم اور بھاری بستے اٹھائے سخت گرمی میں پیدل سکول آرہے ہوتے ہیں۔
یہ بچے ہر روز دن میں دو بار اپنے ہم عمر بچوں کو جب اے سی والی گاڑیوں سے اتر کر ' پرپز بلٹ ' کیمپس میں قائم پرائیویٹ سکولز جاتے دیکھتے ہونگے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟ کیا ان کا حق نہیں بنتا کہ وہ بھی اچھے سکولوں میں تعلیم حاصل کریں؟ کیا ان کے غریب والدین سے حکومت ٹیکس وصول نہیں کرتی؟ تو پھر ان غریب بچوں پر یہ سہولیات
ممنوع کیوں؟


 


Name:  56661790.jpg
Views: 292
Size:  276.8 KB
جمہوریت، عوام، مساوات کی ساری باتیں ڈھکوسلا اور بکواس ہیں۔ یا تو حکمران اپنے بچوں کو بھی سرکاری سکولوں میں بھیجیں یا پھر سب کے بچوں کو ایک جیسے سکولوں میں تعلیم دلوائیں۔
پھر اگر میں کچھ کہوں گا تو کچھ لوگوں کو مرچیں لگتی ہیں۔ شریف فیملی کے اقتدار کی ہسٹری ملاحظہ فرمائیں:
1983 میں نوازشریف صوبائی وزیر بنا۔
1985 میں وزیراعلی بنا۔
1988 میں ایک دفعہ پھر وزیراعلی منتخب ہوا۔
1990 میں نوازشریف وزیراعظم بنا۔
1990 میں ن لیگ کی طرف سے غلام حیدروائیں کو وزیراعلی بنایا گیا جو 1993 تک رہا۔
1996 میں نوازشریف دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوا۔
1996 میں شہبازشریف وزیراعلی بنا۔
2008 میں شہبازشریف دوبارہ وزیراعلی پنجاب بنا۔
2013 میں نوازشریف تیسری دفعہ وزیراعظم منتخب ہوا۔
2013 میں شہبازشریف تیسری دفعہ وزیراعلی منتخب ہوا۔
پچھلے 33 برسوں میں سوائے 1993 سے 1996 تک، اور پھر 2000 سے 2007 تک، شریف فیملی مسلسل پنجاب اور مرکز میں اقتدار پر قابض رہی۔ اس دوران بقول نوازشریف کے، ان کے کاروبار نے اتنی ترقی کرلی کہ کھربوں کی جائیدادیں بیرون ممالک بنا لیں۔
اگر کچھ نہیں بنا سکے تو غریبوں کے بچوں کیلئے سرکاری سکول اور ہسپتال۔