میری قسمت جُدائی ہے
===============
`
سفر اَب جتنا باقی ہے
بہت سردی ہے ممّا
ابھی کُچھ دیر
میرا ہاتھ مت چھوڑیں
زمستاں کی ہوا سے کپکپاتا
تُو کہہ رہا تھا
زیادہ دن نہیں گزرے
کہ میری گود کی گرمی
تجھے آرام دیتی تھی
گلے میں میرے بانہیں ڈال کر تو اس طرح سوتا
کہ اکثر ساری ساری رات میری
ایک کروٹ میں گزر جاتی
میرے دامن کو پکڑے
گھر میں تِتلی کی طرح سے گھومتا پھرتا
مگر پھر جلد ہی تجھ کو
پرندوں اورپھولوں
اورپھر ہمجولیوں کے پاس سے ایسا بلاوا آ گیا
جس کو پا کر
میری اُنگلی چھڑا کر
تو ہجومِ رنگ میں خوشبو کی صورت مل گیا تھا
پھر اس کے بعد
خوابوں سے بھرا بستہ لئے
اسکول کی جانب روانہ ہو گیا تُو
جہاں پر رنگ اورپھر حرف اور پھر ہندسے
اور سو طرح کے کھیل تیرے منتظر تھے
دِل لُبھاتے تھے
تیرے اُستاد مُجھ سے معتبر تھے
دوست مُجھ سے خُوب تر تھے
مُجھے معلُوم ہے
میں تُجھ سے پیچھے رہ گئی ہوں
سفر اَب جتنا باقی ہے
وہ بس پسپائی کا ہی رہ گیا ہے
تیری دُنیا میں اب ہر پل
نئے لوگوں کی آمد ہے
میں بے حد خامشی سے
ان کی جگہیں خالی کرتی جا رہی ہوں
تِیرا چہرہ نکھرتا جا رہا ہے
میں پس منظر میں ہوتی جا رہی ہوں
زیادہ دن نہ گزریں گے
میرے ہاتھوں کی یہ دھیمی حرارت
تُجھے کافی نہیں ہو گی
کوئی خوش لمس دستِ یاسمیں آ کر
گلابی رنگت حدّت
تیرے ہاتھوں میں سمو دے گا
میرا دِل تجھ کو کھو دے گا
میں باقی عُمر
تیرا راستہ تکتی رہوں گی
مَیں ماں ہُوں
اور میری قسمت جُدائی ہے