بیاں جب کلیم اپنی حالت کرے ہے
غزل کیا پڑھے ہے ، قیامت کرے ہے


بھلا آدمی تھا پہ نا دان نکلا
سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے


کبھی شاعری اس کو کرنی نہ آ تی
اسی بے وفا کی بدولت کرے ہے


کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے
لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے


قبا ایک دن چاک اس کی بھی ہو گی
جنوں کب کسی کی رعایت کرے ہے