Name:  863403-passportfile-1428011887-763-640x480.jpg
Views: 306
Size:  57.7 KB
آج میں کسی عزیز کی پاسپورٹ فیس جمع کروانے نیشنل بنک کے باہر لائن میں کھڑا تھا، کافی لمبی لائن تھی اور ہر بندہ کاؤنٹر والے کیشیئر کو گالیاں دے رہا تھا، وہ بیچارہ مولوی تھا، اس لئے باہر مولویوں کا ٹاپک سٹارٹ ہوگیا تھا،، ہر بندہ مولوی کو برا بھلا کہ رہا تھا اور مولویوں کے قصے کہانیاں سنا رہا تھا،،، اچانک ایک پراڈو ہمارے پیچھے پارکنگ والی سائیڈ پر آئی، جس کی نمبر پلیٹ پر chairman لکھا ہوا تھا، کاٹن کا سوٹ پہنے، کالا چشمہ آنکھوں پر ایک آدمی پراڈو سے نکلا، اور ساری لائن کو اگنور کر کے وہ سیدھا کاؤنٹر پر پہنچ گیا. ہم سب لائن والے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، لیکن ڈرتے کسی نے کچھ نہیں کہا.
وہ آدمی کاؤنٹر پر جا کر کیشئر کو بولا،
بابر گجر صاحب نے بیجھا ہے، ان کے والد کی پاسپورٹ کی فیس ہے.
کیشئر: آپکو بابر گجر نے بیجھا ہے؟
آدمی: جی (بہت کرک آواز میں)
کیشئر: یہ جو لائن ہے سب سے پیچھے جا کر کھڑے ہوجاؤ. اور گجر صاحب کو میرا سلام کہنا.
وہ آدمی تھوڑی دیر تک تو بلکل وہاں پر ساکن سا ہوگیا، دائیں بائیں شائیں دیکھا اور چپ چاپ پیچھے آکر لائن میں کھڑا ہوگیا.
ہم سب بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر کھسیانی ہنسی ہنسنے لگے، اور ابھی کچھ دیر پہلے کیشئر کی ماں بہن ایک کرنے والے اب کیشئر کو شاباشی دے رہے تھے.. اسکے بعد کسی نے کیشئر پر کوئی جملہ نہیں کسا، اور خوشی خوشی سب لائن میں اپنی باری کا انتظار کرنے لگ گئے.


- مھر فرید