Name:  Captureww.JPG
Views: 854
Size:  21.8 KBName:  Capture.JPG
Views: 1070
Size:  25.1 KB


ضیا محی الدین شو _____ مہمان: مشتاق احمد یوسفی
میں نے اپنی بیوی کی پسند کی شادی کی ـــــ
پہلے جن حضرات کی آواز صرف ریڈیو پر سننی پڑتی تھی اب ان کی صورت بھی برداشت کرنی پڑتی ہے ــــ
میں فرش پر بیٹھ کر اردو لکھتا ہوں، کرسی اور میز پر بیٹھ جاوں تو ایک جملہ اردو کا نہیں لکھ سکتا لیکن اگر فرش پر بیٹھ جاؤں تو ایک جملہ انگریزی کا نہیں لکھ سکتا بلکہ انگریزی میں تو یہ ہے کہ جب تک ٹائی باندھ کر میز کرسی پر نہ بیٹھوں تو انگریزی گرائمر قابو میں نہیں آتی ـــــ
میرے انسٹرکٹر نے یہ بتایا تھا کہ گاڑی کو بریک سے روکو، بجلی کے کھمبے سے مت روکو اس لیے کے بجلی کا کھمبا اگر گر جائے تو کتوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے ــــ
(مشتاق احمد یوسفی)


اظہار اور رسائی از ن م راشد


مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں
بات کہنے کے بہانے ہیں بہت
آدمی کس سے مگر بات کرئے
بات جب حیلہء تقریب ملاقات نہ ہو
اور رسائی کہ ھمیشہ سے ھے کوتاہ کمند
بات کی غایت غایات نہ ہو!
ایک ذرّہ کف خاکستر کا
شرر جستہ کے مانند کبھی
کسی انجانی تمنّا کی خلش سے مسرور
اپنے سینے کے دہکتے ھوئے تنّور کی لو سے مجبور
ایک ذرّہ کہ ہمیشہ سے ھے خود سے مہجور،
کبھی نیرنگ صدا بن کے جھلک اٹھتا ہے
آب و رنگ و خط و محراب کا پیوند کبھی
اور بنتا ھے معانی کا خداوند کبھی
وہ خداوند جو پابستہ آنات نہ ہو!
اسے اک ذرّے کی تابانی سے
کسی سوئے ہوئے رقّاص کے دست و پا میں
کانپ اٹھتے ہیں مہ و سال کے نیلے گرداب
اسی اک ذرّے کی حیرانی سے
شعر بن جاتے ہیں اک کوزہ گر پیر کے خواب
اسے اک ذرّہ لا فانی سے
خشت بے مایہ کو ملتا ھے دوام
بام و در کو وہ سحر جس کی کبھی رات نہ ہو!
آدمی کس سے مگر بات کرئے
مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں
آدمی سوچتا رہ جاتا ہے،
اس قدر بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھاؤں
اور پھر کس کے لیے بات کروں



Note :- All Nidokidos friends are requested to like our facebook Page
(دیگر شرکاء : مہدی حسن، مریم ربانی، معراج حکیم، زاہدہ محفوظ)