خوابوں کی دیکھ بھال میں آنکھیں اُجڑ گئیں
تنہائیوں کی دُھوپ نے چہرا جلا دیا
لفظوں کے جوڑنے میں عبارت بکھر چلی
آئینے ڈھونڈنے میں کئی عکس کھو گئے
آئے نہ پھر وہ لوٹ کے اِک بار جو گئے
وہ دن، وہ وقت ، وہ رُت ، وہ موسم ، وہ سرکشی
اے گردشِ حیات ، اے رفتارِ ماہ و سال
کیا جمع اِس زمین پہ ہوں ہو نگے نا پھر کبھی
جو ہمسفر فراق کی دلدل میں کھو گئے
پتے جو گِر کے پیڑ سے رستوں کے ہو گئے
کیا پھر کبھی نہ لوٹ کے آئے گی وہ بہار
کیا پھر کبھی نہ آنکھ میں اُترے گی وہ دھنک
جس کے وُفورِ رنگ سے
جھلکی ہوئی ہوا __ کرتی ہے آج تک
اِک زُلف میں سجائے ہوئے پھولوں کا انتظار
لمحے زمانِ ہجر کے پھیلے کچھ اس طرح
ریگِ روانِ دشت کی تمثال ہو گئے
اِس دشت پر سراب میں بھٹکے ہیں اس قدر
نقشِ قدم تھے جتنے بھی، پا مال ہو گئے
اب تو کہیں پہ ختم ہو رستہ گمان کا
شیشے میں دل کے سارے یقین بال ہو گئے
جس واقعے نے آنکھ سے چھینی تھی میری نیند
اِس واقعے کو اب تو۔۔۔ کئی سال ہو گئے
امجد اسلام امجد