Results 1 to 2 of 2

Thread: The war against terrorism and Pakistan - urdu

  1. #1
    Moderator Array mahima's Avatar
    Join Date
    Jan 2007
    Age
    30
    Posts
    10,671
    Country: Pakistan
    Rep Power
    21

    The war against terrorism and Pakistan - urdu

    ۔چند مہینے پہلے انٹرنیشنل میڈیا میں ایک مختصر سی خبر گردش میں تھی کہ نو گیارہ کو جب نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جڑواں ٹاورز پر حملہ ہوا تھا تو اس کے بعد امریکہ نے افغانستان سے مطالبہ کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کو یا تو ہمارے حوالے کیا جائے یا انہیں افغانستان بدر کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں امریکہ نے پاکستان کی حکومت سے بھی مدد کی درخواست کی تھی۔ لیکن ملا عمر نے پشتون والی روایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے مہمان کو غیروں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس تازہ خبر کے مطابق جب افغانستان نے امریکہ کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا تھا تو امریکی انتظامیہ نے بڑی سنجیدگی سے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ افغانستان پر ایٹم بموں سے حملہ کر کے اسے نیست و نابود کر دیا جائے اور اس طرح ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی مسماری کا انتقام لے لیا جائے۔
    یہ خبر بھارت میں جرمنی کے موجودہ سفیر مائیکل سٹینر (Michael Steiner) نے بریک کی ہے۔ 2001ء میں مسٹر شروڈر (Schroder) جرمنی کے چانسلر تھے اور مائیکل سٹینر، اپنے چانسلر کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسیوں کے ایک مشیر تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کاغذی کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔ امریکہ نے افغانستان پر جوہری حملے کی آپشن کے معاملے پر اپنے جنم جنم کے اتحادیوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو اعتماد میں لیا تھا۔ لیکن چانسلر شروڈر کا خیال تھا کہ اگرچہ امریکہ اپنے 3000 باشندوں کی ہلاکت پر سخت حیران تھا اور سیخ پا بھی تھا لیکن جوہری بم کا استعمال ایک ایسی آپشن تھی جسے شروڈر نے اوور ایکٹنگ سے تعبیر کیا تھا۔ اُن کو اندیشہ تھا کہ اگر بش نے اس آپشن کو استعمال کیا تو اس کے نتائج ناقابل بیان حد تک غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ چانسلر شروڈر ، امریکہ کی غیر مشروط حمایت کرنا چاہتے تھے لیکن سٹینر نے اپنے چانسلر کی مخالفت کی تھی۔ تاہم چانسلر شروڈر نے سٹینر کا موقف سن کر اس کا مشورہ مسترد کر دیا تھا اور اس طرح امریکہ کو جرمنی کی طرف سے افغانستان پر جوہری حملے کی کھلی چھٹی مل گئی تھی پُرانے
    قارئین کو یاد ہوگا اُنہی ایام میں ایک امریکی رکنِ انتظامیہ نے پاکستانی صدر کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے امریکی ایئر فورس کے لئے اپنے فضائی مستقر (Bases) استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ تھا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کو بھی Nuke کر دیا جائے گا۔ اس دھمکی میں کتنی حقیقت تھی اور کتنا افسانہ تھا، اس پر بہت سے دانشوروں نے اُس وقت میڈیا پر آکر بہت سے مباحث میں حصہ لیا تھا۔ ان میں سے اکثریت کا خیال تھا کہ امریکہ نیو کلیئر پاکستان پر حملہ نہیں کر سکتا۔ خود سابق صدر مشرف ایسی کسی دھمکی کی تردید کیا کرتے تھے۔ ان کا موقف یہ رہا کہ پاکستان 1998ء میں ایک جوہری قوت بن گیا تھا۔ اس پر جوہری حملہ کر کے اسے پتھر کے زمانے میں دھکیل دینے کی بڑ دیوانے کے خواب کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن اگر آپ امریکیوں کی ہسٹری پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مائیکل سٹینر نے جو یہ خبر بریک کی تھی تو اُس میں کوئی افسانہ نہیں۔
    افغانستان پر امریکی جوہری حملہ اس کا ایک سٹرٹیجک فیصلہ تھا جو امریکی انتظامیہ نے بعض وجوہات کی بنا پر مسترد کیا۔ ان وجوہات میں سرفہرست پاکستان کا ردعمل تھا۔ کابل اور قندھار پر اگر ایٹم بم گرائے جاتے تو ایران اور پاکستان براہ راست اُس سے شدید متاثر ہوتے۔ یہ اثرات فرسٹ ڈگری اثرات کی ذیل میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈیا اور چین کا متاثر ہونا بھی اگرچہ سیکنڈ ڈگری کے سکیل کا ہوتا لیکن ہوتا ضرور۔.

    Name:  10337762_1561780924139869_8131976908224140101_n.jpg
Views: 809
Size:  28.1 KB



     



  2. #2
    Moderator Array mahima's Avatar
    Join Date
    Jan 2007
    Age
    30
    Posts
    10,671
    Country: Pakistan
    Rep Power
    21
    پاکستان کے ردعمل کا چونکہ امریکہ کو 100 فیصد یقین نہیں تھا اس لئے یہ آپشن استعمال نہ کی گئی۔ اس کے بعد آپشن نمبر دو یہ تھی کہ اگر افغانستان پر جوہری حملہ نہ کیا جائے تو اُسے اتنا نقصان پہنچا دیا جائے جو کسی جوہری حملے سے کم نہ ہو۔ اگر آپ ماضئ قریب میں افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کی جنگی کارروائیوں کو نگاہ میں رکھ کر تجزیہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جو کام جوہری ٹیکنالوجی سے نہ لیا گیا وہ غیر جوہری ہتھیاروں سے لیا گیا۔ اول اول تو صرف افغانستان امریکی انتقام کا ہدف تھا لیکن بعد میں جلد ہی عراق اور لیبیا بھی اس کی زد میں آ گئے۔ اس تناظر میں پاکستان کے استقلال کی داد دینی چاہئے کہ اس نے 1980ء کے عشرے کے افغان جہاد والے طرزِ عمل کو اپنایا۔ از راہِ اتفاق اس عشرے میں بھی پاکستان کی عوام کی خوش قسمتی کہ بساطِ اقتدار پر ایک ’’فوجی جنرل ‘‘ موجود تھا اور دس سال بعد 2000ء کے عشرے میں بھی ایک دوسرے جنرل ۔ انہوں نےبھی اپنے پیشرو کی پالیسی کی تقلید کی۔ افغان جہاد میں پاکستان نے سوویت یونین کے رد عمل کی پروا نہیں کی تھی، امریکی مالی اور اسلحی امداد کے بل بوتے پر افغان جہاد کو منظم کیا تھا اور اس کے پردے میں پاکستان کے جوہری پروگرام کو ڈویلپ کرنے کا ایک عظیم کارنامہ انجام دیا تھا حالانکہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو جوہری بم کی تباہ کاریوں کے حجم کا خوب اندازہ تھا۔ ابھی حال ہی میں 1+5 نے ایران کی نیو کلیئر ڈیل میں جو کردار ادا کیا، وہ 1980ء یا اس کے بعد کسی بھی وقت پاکستانی جوہری ڈویلپ منٹ کی راہ میں بھی حائل ہو سکتا تھا۔ ایران تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے لیکن پاکستان کے پاس کیا تھا؟ جنرل ضیا نے امریکی سرمائے اور غیر ملکی چرائی ہوئی نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے کام لے کر 1971ء میں بھارت کے ہاتھوں شکست خوردہ اور دو نیم پاکستان کو ایک ایسی قوت کا اہل بنا دیا جس نے بھارت تو کیا، دنیا کی کسی بھی بڑی طاقت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی نیت سے ’’محروم‘‘ کر دیا! ہم سب جانتے ہیں کہ 1984ء میں جنرل ضیاء کی ناگہانی موت سے بھی چار سال پہلے پاکستان نے جوہری بم کا لیبارٹری تجربہ کر لیا تھا۔
    جنرل پرویز مشرف پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر کے ایک ٹیلی فون پر گھٹنے ٹیک دیئے۔ صدر بش نے ان سے جب یہ پوچھا کہ ’’جنرل صاحب! آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ‘‘ تو جنرل صاحب کو پسینہ آ گیا تھا اور انہوں نے فوراً جناب بش صاحب کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر آپ ملٹری ہسٹری کے طالب علم ہوں تو آپ کو خوب معلوم ہوگا کہ امریکہ اور امریکہ کے ساتھ اُس کے تین مغربی اتحادیوں (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کی بیسیویں صدی کی دو عظیم جنگوں میں اُن کی فتح کا راز کیا تھا۔۔۔ 1943-44ء میں جرمنی پر اور 1945ء کے اوائل میں جاپان پر امریکی اور یورپی فضائی بمباری اس قدر شدید اور وحشیانہ تھی کہ جنگ کے بعد تمام عسکری تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا کہ مغربی طاقتوں کا یہ اقدام، جوہری حملے کی تاثیر کے برابر تھا!۔۔۔اور پھر جب جولائی 1945ء میں ایٹم بم کا تجربہ کامیاب ہوا تو امریکہ نے ایک مہینہ بھی انتظار نہیں کیا اور اس وقت تک بنائے گئے دونوں بموں کو اگست 1945ء کے پہلے عشرے میں استعمال کر کے 1943-44 ء کی اپنی غیر جوہری بمباری والی تاثیر کو جاپان پر دہرا دیا۔
    1945ء سے 1949ء تک امریکہ، جوہری قوت کا واحد ٹھیکیدار بنا رہا۔ 1949ء میں اگرچہ سوویت یونین نے ایٹم بم کا تجربہ کر دیا تھا لیکن تب تک امریکہ، 300 جوہری بم بنا چکا تھا۔ جنوری 1950ء میں جب کوریا کی جنگ شروع ہوئی تو شمالی کوریا کی پشت پر چین اور روس تھے اور جنوبی کوریا کا حمائتی امریکہ اور اس کے ’’جنم جنم کے مغربی اتحادی‘‘ تھے۔ کوریا کی جنگ کا اگر آپ تفصیلی مطالعہ کریں تو آپ پر امریکی عسکری اور سویلین حکمت عملیوں کے بہت سے راز منکشف ہوجائیں گے۔ پاک آرمی میں، کیپٹن سے میجر کے رینک میں پروموشن پانے کے لئے ہر آرمی کیپٹن کو ایک تحریری امتحان پاس کرنا پڑتا ہے جس کے چار پرچے ہوتے ہیں۔ یعنی ملٹری ہسٹری، بین الاقوامی تعلقات و روابط، ملٹری لا اور ٹیکٹکس اور ایڈمنسٹریشن اور مورال۔۔۔ جب تک کوئی آفیسر یہ امتحان پاس نہیں کر لیتا، وہ میجر کا رینک کاندھے پر نہیں لگا سکتا(آجکل اپنے سینے پر).
    ہمارے ملٹری ہسٹری کے اس پیپر میں (1970ء کے عشرے میں) جو جنگیں شامل تھیں، ان میں کوریا کی جنگ بھی تھی جو 1950ء سے 1953ء تک دنیا کی دو بڑی ملٹری پاورز کے درمیان لڑی گئیں۔1953ء میں جب امریکہ نے شمالی کوریا کا بڑا حصہ تسخیر کر لیا تو پیپلزلبریشن آرمی (PLA) نے کروٹ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکی آٹھویں آرمی کو کوریا سے تقریباً بے دخل کر دیا۔ صرف ایک چھوٹی سی بندر گاہ امریکن بحریہ/ میرین کے پاس باقی رہی۔ اُس وقت جنرل میکارتھر، خطۂ بحر الکاہل میں امریکی فورسز کا کمانڈر انچیف تھا۔ اس نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ چین کو شکست دینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس پر جوہری حملہ کر دیا جائے۔ اس وقت امریکی صدر ٹرومین تھے۔ یہ وہی صدر تھے جنہوں نے 6 اگست اور پھر 9 اگست 1945ء کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے کا حکم دیا تھا۔ وہ آٹھ برس تک امریکی صدر رہے۔ تاہم چین پر ایٹمی بمباری کے سوال پر جنرل میکارتھر اور صدر ٹرومین میں ٹھن گئی۔
    میکارتھر، دوسری جنگ عظیم کا سب سے عظیم امریکی فیلڈ کمانڈر تھا۔ اس کی سوانح کا مطالعہ بہت سبق آموز ہے۔ اس نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد چین پر جوہری بم گرائے جائیں۔ اس کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ 150 کے قریب جوہری بم سرزمینِ امریکہ سے لا کر جزیرہ اوکی ناوا میں ذخیرہ کر دیئے جائیں تاکہ وہاں سے ان کو روس اور چین کے خلاف استعمال کرنے میں کسی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ چین پر ایٹمی حملہ کرنے یا نہ کرنے کے معاملے نے اس قدر طول کھینچا کہ ٹرومین کو جنرل میکارتھر کو سیک کرنا پڑا۔۔۔ ٹرومین نے جاپان پر بم کیوں گرائے اور چین پر کیوں نہ گرائے، بلکہ اپنے ٹاپ ملٹری کمانڈر کو Sack کر دیا، اس کی تفصیل بہت طویل ہے۔ اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔
    اس کے بعد امریکہ نے ویت نام وار اور دنیا میں اور بھی جہاں کہیں جنگیں لڑیں نیو کلیئر آپشن کو ان میں خارج از امکان نہ رکھا۔ 2001ء میں تو افغانستان کے خلاف سارا امریکہ انتقام کی آگ میں جل رہا تھا لیکن یہ کہنا بھی بالکل درست ہوگا کہ امریکی قیادت کو ہمیشہ اس حقیقت کا ادراک رہا کہ ایک بار اگر جوہری روبی کان عبور کر لیا گیا تو پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع نہ ملے گا۔۔۔۔ اور کیا خبر پیچھے مڑ کر دیکھنے والا ہی کوئی اس کرۂ ارض پر زندہ نہ بچے! (روبی کان ایک خیالی دریا ہے جس کو عبور کرنے کے بعد کوئی انسان پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتا۔ آگے ہی آگے دیکھتا ہے)
    اس تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جنرل مشرف نے بھی جنرل ضیاء کے ڈاکٹرین کی پیروی کی۔ جنرل مشرف نے ایک طرف تو بش کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے فضائی مستقروں (Bases) کو (لاجسٹک سپورٹ ہی کے لئے سہی) امریکی فضائیہ کے لئے کھول دیا لیکن دوسری طرف میزائل ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لئے ’’گردن توڑ‘‘ رفتار سے کام شروع کر دیا۔ اُن کا خیال تھا کہ جوہری بم بنا کر اسے کسی غار میں چھپا لینا اس وقت تک بالکل لغو بات ہو گی جب تک اس کے لئے کوئی لانگ رینج ڈلیوری سسٹم تیار نہ کر لیا جائے۔ خوش قسمتی سے یہ سسٹم بعض ’’دوستوں‘‘ کے تعاون سے قابلِ حصول تھا۔ چنانچہ پاکستان نے 2001ء کے بعد نہایت تیزی سے اپنے میزائل ترکش میں اضافہ کرنا شروع کیا۔ ہر چار چھ ماہ بعد اپنی میزائل قوت اور تعداد میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ میزائلوں کی اقسام، ان کی رینج اور ان کی ہلاکت آفرینیوں میں اضافہ کیا اور ان کو باقاعدہ پاک فوج کا ایک حصہ بنا دیا۔ گن اینڈ میزائل یونٹوں کا قیام، میزائل پروڈکشن کی لیبارٹریاں اور میزائل اسمبلی کے فن میں دور و نزدیک سے سائنسدانوں اور انجینئروں کو انڈکٹ کیا گیا اور ان کے ذمے جو مشن سونپا گیا، وہ یہ تھا کہ پاکستان کی جوہری استعداد کو قابل عمل (Practicable) بنایا جائے۔.اور آج نتیجہ ہمارے سامنے پیش ہے آج پاکستان کے پاس الحمدللہ ایسے میزائلوں کا ڈھیر لگ رہا ہے جو امریکا کو نقشے سے مٹا سکتا ہے
    مغربی ممالک نے بڑا شور مچایا کہ پاکستان کے بم، دہشت گردوں کی زد میں ہیں۔ یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جس کی مضحکہ خیزی کو خود امریکی بھی تسلیم کرتے تھے۔ تاہم پاکستان نے اس باب میں بھی بڑی تیزی سے اقدامات کئے۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) بنائی، سٹرٹیجک پلانز ڈویژن (SPD) تشکیل دیا اور ان کی کمانڈ سویلین ہاتھوں میں دے دی۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی دیکھ بھال، ان کی پالیسی، ان کا استعمال، ان کی ڈویلپ منٹ اور ان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کو (NCA) کے تابع بنایا۔ سب سے بڑی بات اس ضمن میں جو کی گئی وہ یہ تھی کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو سٹریٹیجک کمانڈ پالیسی سازی کا اختیار دے دیا گیا اور ساتھ ہی یہ اختیار بھی دے دیا گیا کہ وزیر اعظم اور کابینہ خود فیصلہ کریں کہ پاکستان کو کس قسم اور کس طرف سے جوہری حملوں (اور غیر جوہری حملوں) کے خطرات لاحق ہیں، اُن کا توڑ کیا ہے اور کس نے کیا کرنا ہے۔
    جب امریکہ اور اس کے ’’جنم جنم کے اتحادیوں‘‘ کو (NCA) اور (SPD) کی طرف سے یکے بعد دیگرے بریفنگز دی جانے لگیں تو ان کو معلوم ہوا کہ پاکستان کی تنظیمی صلاحیتیں بھی اس کی جوہری تولیدی صلاحیتوں سے کمتر نہیں!۔۔۔ہمارے فوجی جنرلوں سےبہت سی غلطیاں ہوئی تھی ۔ لیکن انہوں نے بعض ایسے کام بھی پاکستان کیلئے سر انجام دیئے جن سے کوئی با ہوش قاری انکار نہیں کرے گا۔والسلام #

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)







Similar Threads

  1. Replies: 0
    Last Post: 11-15-2015, 03:47 PM
  2. Replies: 0
    Last Post: 04-15-2015, 10:39 PM
  3. A way to stop terrorism in Pakistan !!!
    By carefree in forum World News
    Replies: 0
    Last Post: 04-12-2015, 02:13 AM
  4. root cause of terrorism in Pakistan
    By Tahir Bati in forum Jokes
    Replies: 0
    Last Post: 01-03-2013, 10:57 AM
  5. Suicide Bombing and Terrorism (Urdu)
    By aamirbati in forum Religion
    Replies: 1
    Last Post: 07-18-2010, 10:13 AM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  



Get Daily Forum Updates

Get Most Amazing E-mails Daily
Full of amazing emails daily in your inbox
Join Nidokidos E-mail Magazine
Join Nidokidos Official Page on Facebook


Like us on Facebook | Get Website Updates | Get our E-Magazine