شرارِ برق سے سَارا جہان روشن تھا
عجیب طرح سے کل آسمان روشن تھا
ورائے چشم بھی اِک روشنی فضا میں تھی
کوئی مکان سے تا لامکان روشن تھا
میں اُس کے ساتھ روانہ تھی کِن فضاؤں کو...
زمیں کا چہرہ فلک کے سمان روشن تھا
وصالِ روح و نظر کے عجیب لمحے میں
ہر ایک زاویۂ جسم و جان روشن تھا
فراق میں ہی رہے ہم تو ساری عُمر مگر
چراغ سا کوئی نزدیکِ جان روشن تھا
سپیدیٔ خطِ ساحل نظر میں تھی جَب تک
میرا ستارئہ تیرا بادبان روشن تھا
طلوعِ انجم و تکوینِ مہر سے پہلے
گماں گزرتا ہے یہ خاکدان روشن تھا