غزل


 


عشق جب بے نیاز ہو جائے
دل کی دنیا خراب ہو جائے
کیوں تو بس گیا ان آنکھوں میں
کچھہ تو اشکوں کا حساب ہو جائے
ہم جو تیرے قریب آئے تو
فاصلے اور بڑھ گئے جاناں
اور کتنا یہ وقت بیتے گا
جستجو کا حساب ہو جائے
اب تو آئو کہ وقت کم ہے بہت
صفحے زندگی کے سب ہی پڑھ ڈالے
کچھہ تحریریں اب بھی باقی ہیں
آئو کہ کہیں رابی کا آخری حساب نہ ہو جائے
شاعرہ: رابعہ اقبال رابی