سج گئی بزمِ رنگ و نُور ایک نگاہ کے لئے
بام پہ کوئی آ گیا زینتِ ماہ کے لئے
فرشِ فلک پہ پاؤں رکھ، دیکھ تو کِس طرح سے ہیں
تارے بِچھے ہُوئے تیری چشمِ سیاہ کے لئے
دل میں یقینِ صُبح کی لَو جو ذرا بلند ہو...
کافی ہے ایک ہی دِیا شب کی سپاہ کے لئے
ہم میں وہ لوگ بھی ہیں جو اے میرے شہریارِ حَسن
آئے نہیں تیری طرف منصب و جاہ کے لئے
میری پھٹی ہُوئی ردا دے بھی گئی بیاں مگر
فیصلہ رُک گیا ہے ایک اور گواہ کے لئے
کیا ہُوا گر نہیں نصیب میرے لباس کو رفو
طرّئئہ زرفشاں تو ہے تیری کلاہ کیلئے
ہم بھی عجیب لوگ ہیں یا تو بہار گر ہیں یا
سارا چمن جلا دیا اِک پرکاہ کیلئے
ایک سہانی صُبح کو شہر جَلا ہُوا ملا
ہوتی رہیں حفاظتیں ظلِ الٰہ کے لئے
سارے جہاں سے کٹ گئے کتنے اکیلے رہ گئے
کس نے کہا تھا عُمر بھر غم سے نباہ کے لئے