حدثنا أبو عامر عبد الملك بن عمرو حدثنا زهير يعني ابن محمد عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن سعيد بن المسيب عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ألا أدلكم على ما يكفر الله به الخطايا ويزيد به في الحسنات قالوا بلى يا رسول الله قال إسباغ الوضو على المكاره وكثرة الخطا إلى هذه المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة ما منكم من رجل يخرج من بيته متطهرا فيصلي مع المسلمين الصلاة ثم يجلس في المجلس ينتظر الصلاة الأخرى إن الملاكة تقول اللهم اغفر له اللهم ارحمه فإذا قمتم إلى الصلاة فاعدلوا صفوفكم وأقيموها وسدوا الفرج فإني أراكم من ورا ظهري فإذا قال إمامكم الله أكبر فقولوا الله أكبر وإذا ركع فاركعوا وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد وإن خير الصفوف صفوف الرجال المقدم وشرها المؤخر وخير صفوف النسا المؤخر وشرها المقدم يا معشر النسا إذا سجد الرجال فاغضضن أبصاركن لا ترين عورات الرجال من ضيق الأزر



مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 11 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 1
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس سے اللہ گناہوں کو معاف فرمادے اور نیکیوں میں اضافہ فرمادے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو شخص بھی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرے، پھر مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرے تو فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے۔
جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو صفیں سیدھی کرلیا کرو ، خالی جگہ کو پر کر لیا کرو، کیوں کہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ، کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو اور مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین پہلی صف ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو، اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو ۔


______________________________ ______________________________ ___________




حدثنا زكريا بن عدي حدثنا عبيد الله بن عمرو عن ابن عقيل عن سعيد بن المسيب عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه سمعه يقول ألا أدلكم على ما يكفر الله به الخطايا ويزيد به في الحسنات قالوا بلى قال إسباغ الوضو على المكروهات وكثرة الخطا إلى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة



سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 694 حدیث مرفوع مکررات 16 متفق علیہ 1
حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کیا میں ایسی چیزوں کے بارے میں رہنمائی نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور جن کے ذریعے نیکیوں میں اضافہ کردیتا ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت ناپسند ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا اور مسجد کی طرف دور سے چل کر آنا اور ایک نماز پڑھ لینے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ یہ اعمال گناہوں کو ختم کردیتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔ حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے
سنا ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔












Name:  Nafal-Namaz-of-Tahiyatul-Wudhu-Importance-and-Benefits.jpg
Views: 985
Size:  25.6 KB