جو بساطِ جاں ہی الٹ گیا، وہ جو راستے میں پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا؟ اسے مت بُلا اسے بھول جا

یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا، اسے دیکھ اس پہ یقین نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل، سرِ آئینہ اسے بھول جا

... نہ وہ آنکھ ہی تیری آنکھ تھی، نہ وہ خواب ہی تیرا خواب تها
دلِ منتظر تو یہ کس لئے؟ تیرا جاگنا اسے بھول جا

کیوں اٹا ہوا ہے غبار میں؟ غمِ زندگی کے فشار میں؟
وہ جو درد تھا تیرے بخت میں، سو وہ ہوگیا اسے بھول جا

کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم، ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا، تو بھی مسکرا اسے بھول جا

میں جو گم تھا تیرے ہی دھیان میں، تری آس ترے گمان میں
صبا کہہ گئی میرے کان میں، میرے ساتھ آ اُسے بھول جا

میں جو گم تھا تیرے ہی دھیان میں، تری آس ترے گمان میں
صبا کہہ گئی میرے کان میں، میرے ساتھ آ اُسے بھول جا