ریحام خان سے طلاق کے چند دنوں بعد خان صاحب پشاور میں ہسپتالوں کی کنڈیشن پر پریس کانفرنس کررہے تھے کہ ایک صحافی نے ان سے ریحام خان کو طلاق دینے کی وجہ پر سوال پوچھ لیا۔ ایک تو طلاق کا دکھ، اوپر سے موضوع سے ہٹ کر سوال، خان صاحب کو غصہ آگیا اور انہوں نے جواب میں اس صحافی سے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیئے ایسے سوال پوچھنے پر۔
بس پھر کیا تھا، صحافیوں کی "غیرتمند" برادری کو جوش آگیا اور انہوں نے سوشل میڈیا، اخبارات اور ٹی وی پر خان صاحب کے خلاف دھواں دھار تقریریں شروع کردیں۔ عارف نظامی سے جاوید چوہدری تک، سب لفافہ خوروں نے شدید احتجاج کیا۔ اگلے دن خان صاحب نے اس صحافی سمیت پوری برادری سے معافی مانگ کر جان چھڑائی۔
حال ہی میں دورہ نیوزی لینڈ سے قبل شاہدآفریدی قذافی سٹیڈیم میں پریس کانفرنس کررہے تھے کہ ایک صحافی نے ان کی کارکردگی پر کوئی چبھتا ہوا سوال کرڈالا۔ آفریدی نے جواب میں کہا "مجھے تم سے ایسے ہی گھٹیا سوال کی امید تھی"
بس پھر کیا تھا، صحافیوں نے اپنے پیٹی بھائی کی توہین کے خلاف ہنگامہ شروع کردیا۔ آفریدی واپس چلے گئے۔ انتخاب عالم، ظہیرعباس اور پی سی بی کے سینئر لوگوں نے آفریدی کی طرف سے معافی بھی مانگی لیکن صحافیوں کا مطالبہ تھا کہ آفریدی خود معافی مانگے۔
کل شام وزیراطلاعات پرویزرشید بھی پریس کانفرنس کررہے تھے جس میں وہ ملک پر چڑھے قرضے اتارنے کے بارے میں قوم سے قربانی کی اپیل کررہے تھے۔ ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھ لیا کہ "قرض اتارو ملک سنوارو سکیم کا پیسہ کدھر گیا؟"
اس پر وزیراطلاعات غصہ میں آگئے اور اس سے پوچھا کہ تم کہاں نوکری کرتے ہو؟ صحافی نے جواب دیا کہ اے پی پی (یہ ایک سرکاری نیوزایجنسی ہے)۔
وزیراطلاعات نے غصے سے کہا کہ تمہیں شرم آنی چاہیئے، سرکاری خبررساں ایجنسی کے نمائیندہ ہوکر وزیراعظم پر تنقیدی سوالات کرتے ہو۔ تمہیں کس نے نوکری پر رکھا؟
ایک اور صحافی نے صرف اتنا کہا کہ سر، اس نے تو ایک سوال ہی کیا ہے۔
اس پر وزیراطلاعات نے کہا کہ تم لوگ اس قابل نہیں کہ میں پریس کانفرنس کروں، اور یہ کہہ کر پریس کانفرنس ختم کرکے چلے گئے۔
میں کل سے انتظار کررہا ہوں کہ صحافی برادری کی غیرت اسی طرح جاگے جس طرح عمران خان اور آفریدی کے معاملے میں جاگی تھی، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ عارف نظامی سے لے کر جاوید چوہدری تک، کسی کو اپنے پیٹی بھائی کے خلاف وزیراطلاعات کے اس رویئے پر مروڑ نہیں اٹھے۔
یہ بے غیرت صحافی اور یہ بے غیرت برادری۔ ان سب کا مجموعہ مل کر جس قسم کی قوم تشکیل دیتا ھے، وہ نرم سے نرم الفاظ میں بھی بے غیرت ہی کہلائے گی!!! بقلم خود باباکوڈا
‪#‎babakodda‬
Baba Kodda
پس تحریر: دعا ہے کہ اس سوال کرنے والے صحافی کی نوکری بچ جائے، لیکن ن لیگ کی
معاف کرنے کی روایت تو ایسی نہیں ہے۔


Name:  it.jpg
Views: 1279
Size:  58.2 KB