Name:  10295749_883528991761443_5616083425568334687_n.jpg
Views: 843
Size:  15.0 KB


 






لاہور میں ہمارا پہلا گھر ریلوے سٹیشن اور گڑھی شاہو کی قربت میں بوڑھ والا چوک یعنی برگد والے چوک کے پہلو میں تھا، وہ ایک محلہ تھا جس میں داخل ہونے کا ایک بوسیدہ دروازہ تھا جو سرشام بند ہو جاتا تھا، دو کولونیئم طرز کے پرانے کمرے اور ایک صحن۔۔۔اس گھر کی یادیں کہاں ہوں گی کہ میں ایک رینگتا ہوا گول مٹول سیاہ رنگت کا موٹی موٹی آنکھوں والا ایک فضول اور بُدھو سا بچہ تھا، جو کچھ میری یادداشت میں ہے وہ میرے اباجی اور امی جان کی کہاوتیں ہیں۔ میری امی جو اُن دنوں ایک ٹین ایجر بالڑی سی لڑکی تھی، صحن میں آٹا گوندھ رہی ہیں اورمیں اُن کے آس پاس غاں غاں کرتا گھٹنوں کے بل رینگتا صحن کی سیاحت کرتا ہوں اور پھر اُن کی بے خبری میں ایک کمرے میں چلاجاتا ہوں۔۔۔ سرخ اینٹوں کے فرش پر کچھ سرخ رنگ کی گولیاں پڑی ہیں جنہیں اٹھا کر میں نہایت رغبت سے نگل لیتا ہوں، یہ چوہے مار گولیاں ہیں جو اُن دنوں چوہوں کو تلف کرنے کے لئے استعمال ہوا کرتی تھیں، گولیاں نگل کر میں فوراً اوندھا ہو جاتا ہوں۔۔۔ میری امی جب آٹا گوندھتی آس پاس نظر کرتی ہیں تو میں صحن میں نہیں ہوں، وہ باؤلی ہو کر مجھے تلاش کرتی ہیں اور میں فرش پر ایک مردہ لال بیگ کی مانند اوندھا پڑا ہوں اور میری باچھوں میں سے جھاگ کے بُلبلے پھوٹ رہے ہیں۔۔۔ گڑھی شاہو کے ڈاکٹر صاحب معائنہ کرکے کہتے ہیں کہ یہ بچہ تو گیا، چوہوں کا زہر اثر کرگیا ہے،تب مجھے ایک قے ہوتی ہے اور یکدم ہوش میں آکر باں باں کرتا رینگنے لگتا ہوں اور یہ معجزہ اس لئے رونما ہوا کہ امی نے آٹا گوندھنے سے پیشتر مجھے گرائپ واٹر کے دو چمچے پلائے تھے جن کی وجہ سے مجھے قے ہوئی اور میں باں باں کرنے لگا۔۔۔ مجھے بہرطور اتنا یاد ہے کہ گرائپ واٹر کی بوتل پر چسپاں لیبل پر ایک موٹو سا بچہ ایک سانپ کو گرفت میں لئے بیٹھا ہے اور اُس میں سونف کی مہک تھی۔ بہت برس بیت چکے جب بیروت میں، عربوں کا پسندیدہ عرق سونگھا تو اُس میں بھی سونف کی مہک تھی۔
میں اب چلنے لگا ہوں۔۔۔ محلے میں کھیلنے لگا ہوں، کھیلتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گیا ہوں تو ایک اجنبی شخص میرے پاس آکر سرگوشی کرتا ہے۔ بیٹے، مٹھائی کھاؤ گے۔۔۔ وہ مجھے برفی کا ایک ٹکڑا دیتا ہے اور پھرکہتا ہے آؤ، میں تمہیں سیر کراتا ہوں وہ مجھے کاندھوں پر بٹھا کر سیرکرواتا ہے جب کہ میں مزے سے برفی کھا رہا ہوں اور وہ اتفاقاً لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچ جاتا ہے اور پلیٹ فارم پر موجود ایک ٹرین میں سوار ہونے کو ہے جب اتفاقاً میرے ابا جی کا ایک دوست مجھے ایک اجنبی شخص کے کاندھوں پر سوار برفی ہڑپ کرتے دیکھ لیتا ہے اور قریب آکر کہتا ہےمستنصر ۔۔۔ تم کہاں جا رہے ہو۔۔۔ وہ اجنبی شخص ، ایک خرکار مجھے فوراً کندھوں سے اتار کر پلیٹ فارم پر پٹختا ہے اور بھاگ نکلتا ہے، ابا جان کے وہ دوست مجھے گھر پہنچا دیتے ہیں۔ میری حیات کی داستان کتنی مختلف ہوتی اگر وہ شخص مجھے اغوا کرکے لے جاتا۔۔۔ میں کسی خرکار کیمپ میں ایک زنجیروں میں بندھا مزدور ہوتا، کسی نہری منصوبے میں گدھوں کو ہانک رہا ہوتا، یا پھر وہ شخص مجھے فروخت کردیتا۔۔۔ممکنات کا کچھ شمارنہیں، بہرطور یہ طے ہے کہ میں اگر مزدور، گدھے ہانکنے والا یا شاید ایک جنسی غلام ہوتا، میں کب کا مر چکا ہوتا۔ میرا دوسرا گھر، اور یہ گھر میری یادداشت میں مکمل تفصیل سے محفوظ ہے۔
چیمبرلین روڈ پر واقع، احاطہ قادر بخش کے داخلے پر بلند ہوتا وہ گھر جو سہ منزلہ تھا، جس کی محراب دار بالکونیوں کے آگے چِکیں تنی ہوتی تھیں اور جہاں دوسری منزل پر ایک کچے صحن میں میرے ختنے کئے گئے تھے۔ مجھے دو اینٹوں پر براجمان کرکے جب ابراہیم نائی نے کہا تھا کہ ۔۔۔ مستنصر ، اوپر دیکھو، ایک چیل گدھا اٹھائے لئے جا رہی ہے تو میں نے نہایت اشتیاق سے اوپر دیکھا تو نیچے سے ابراہیم نائی نے میرا کام تمام کر دیا۔۔۔ مجھے مختصر کردیا،اِسی گھر کی تیسری منزل پر بچھی چھت پر بسنت بہار کے بہت مزے لوٹے، بڑی گڈیاں اور پتنگیں لوٹیں اور ڈور سے اپنی انگلیوں کوخون کیا۔ 1947ء میں جلتے بھڑکتے شاہ عالمی گیٹ کے مکانوں اور حویلیوں سے اٹھتی راکھ کو میں نے اپنے چہرے پر گرتے محسوس کیا، وہاں نہ صرف عمارتیں جلتی تھیں بلکہ ہندو آبادی کے بدن بھی جلتے تھے۔ میں نے اُن راکھ زمانوں کو اپنے ناول راکھ میں بیان کیا ہے۔ چیمبرلین روڈ کے اسی گھر میں میری منجھلی ہمشیرہ شاہدہ، ایک چار برس کی موٹی بچی، گھنٹی بجنے پر دوڑتی ہوئی لکڑی کی گیلری کی جانب لپکی کہ نیچے کون ہے تو گیلری پر اُمڈتی ہوئی نیچے بازار میں واقع سبزی کی دکان میں گاجروں اور گوبھی کے پھولوں میں جاگری اور تقریباً مر گئی۔
(چار گھر، میری حیات کے، لاہور کے
مستنصر حسین تارڑ
December 29, 2015)