Name:  a.raja.d.may.13.08.jpg
Views: 1303
Size:  111.9 KB


جو لوگ دیہاتوں کے رہنے والے ہیں وہ جانتے ہوں گے دیہاتوں میں ایک کیڑا پایا جاتا ہے جسے گوبر کا کیڑا کہا جاتا ہے. اسے گائے , بھینس کے گوبر کی بو بہت پسند ہوتی ہے. وہ صبح اٹھ کر گوبر کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور سارا دن جہاں سے گوبر ملے اسکا گولا بناتا رہتا ہے۔ شام تک اچھا خاصا بڑا گولا بنا لیتا ہے۔ پھر اس گولے کو دھکا دیتے ہوئے اپنی بل تک لے جاتا ہے۔ لیکن بل پر پہنچ کر اسے احساس ہوتا ہے کہ گولا تو بہت بڑا بنا لیا اور بل کا سوراخ چھوٹا ہے۔ بہت کوشش کے باوجود وہ گولا بل میں نہیں جا سکتا۔

یہی حال ہم سب کا ہے۔ ساری زندگی حلال حرام طریقے سے دنیا کا مال و متاع جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جب آخری وقت قریب آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب تو قبر میں میرے ساتھ نہیں جا سکتا اور ہم اس زندگی بھر کی کمائی کو حسرت سے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔
میں چاہے کوئی کامیاب بزنس مین بن جاؤں، عربوں روپے کے بنک بیلنس بنا لوں، اپنے لئے ہر آسائش کا انتظام کر لوں، لیکن جب میری سانس نکل جائے گی تو میرا قیمتی لباس اتار کر لٹھے کا کفن پہنا دیا جائے گا۔ میرے محل نما گھر میں میرا وجود برداشت نہیں کیا جائے گا۔میرے نام کے بجائے مجھے میت کہا جائے گا۔ کل تک جو لوگ میرے بغیر رہ نہیں سکتے تھے، آج وہ خود مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا کر قبر کے گڑھے میں چھوڑ آئیں گے۔
ہمیں اس عارضی دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے، اس لئے ہمیں جہاں جانا اور مستقل رہنا ہے، وہاں کے لئے تیاری کرنا بہت ضروری ہے۔ ہر نیکی ہمیں وہاں ایک رفیق دوست کے روپ میں ملے گی اور ہر برائی عذاب کی صورت میں! اب یہ ہمارے اپنے اختیار میں ہے کہ ہم اپنی آخرت کے لئے اچھا ٹھکانہ بناتے ہیں یا برا۔ اپنے لئے وہ چیزیں جمع کرتے ہیں جو آخرت میں کام آئیں گی، یا گوبر کے کیڑے کی طرح حرص و لالچ میں پڑ کر صرف اپنا وقت برباد کرتے ہیں