Name:  2353060991_622a51bfb5_b.jpg
Views: 1142
Size:  758.8 KB


بغداد میں ایک شخص نے کتا پال رکھا تھا ایک دن اس کا کہیں جانا ہوا تو کتا بھی ساتھ ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ اس شخص کا گزر اس کے دشمنوں کے پاس ہوا، انہوں نے پکڑ لیا اور ایک مکان میں لے جا کر قتل کر کے کنوئیں میں پھینک دیا، کتا ان کے دروازے پر پڑا رہا ان لوگوں میں سے ایک شخص باہر نکلا تو کتا اسے کاٹنے کو دوڑا، اس نے لوگوں کو مدد کے لئے پکارا اور بمشکل جان بچائی۔ مگر اس واقعہ کی اطلاع خلیفہ کو بھی ہوئی تو خلیفہ نے اس شخص کو بلایا اور پوچھا آجر کیا وجہ ہے کتا تیرے پیچھے کیوں پڑ گیا؟ مقتول کی ماں نے دیکھا تو کہا میرے بیٹے کے دشمنوں میں یہ شخص بھی ہے کوئی تعجب کی بات نہیں یہ بھی قاتلوں میں شامل ہو۔ چنانچہ خلیفہ نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ چلو وہ سبھی جا رہے تھے اور کتا بھی ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ اس کنوئیں پر پہنچے تو کتے نے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا یہ ماجرا دیکھتے ہیں اس شخص نے اقرار کر لیا کہ میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا ہے۔ چنانچہ خلیفہ نے قصاص میں تمام کو قتل کرا ڈالا۔
(نزہتہ المجالس جلد ۲)
کتا بھی اپنے مالک کا اتنا وفادار ہے کہ اس کا نمک کھاتا ہے تو پھر اس کی چوکھٹ سے لگا رہتا ہے اور اپنی وفاداری کا حق ادا کر دیتا ہے۔ لیکن ہم انسان اپنے رب العالمین سے کیسے غافل ہوئے کہ اس کی ہر طرح کی نعمت کے باوجود دنیا میں ایسے کھو گئے کہ اپنے رب کو بھول گئے اور اس کے نا شکرے ہو گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
”اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں نے تم کو عنائیت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور نا شکرا ہے۔“
(سورۃ ابراہیم آیت 34)