Name:  2024_887015664747055_8884970460352242714_n.jpg
Views: 535
Size:  45.4 KB
محبتوں میں گُندھی رتی جناح
آج بھی تنہا
سید حسین افسر، سینئر ہندوستانی صحافی (لکھنؤ)
ممبئی کے مجگاﺅں علاقے میں واقع مسلمانوں کے تین مسالک کے قبرستان ایک دوسرے سے متصل ہیں ۔ ان میں سے ایک آرام باغ قبرستان خوجہ شیعہ اثنا عشری فرقے کا ہے جس میں پپیتے ، بادام ، ناریل اور شریفے آم اور جامن کے پیڑوں کے سائے میں کچی پکی قبروں کے درمیان ماربل کی ایک پکی قبر ایک ایسی نو جوا ن خاتون کی ہے جس نے اپنے قدیم ترین مذہب اور شہر ممبئی کے بے حد متمول اور نامور خاندان کو چھوڑ کر ایک ایسے شخص سے شادی کر لی تھی جو اس کے والد کا دوست تھا اور جو عمر میں اس سے دو گنا تھا ۔
تین فٹ اونچی سفید ماربل کی اس قبر پر لگے کتبے پر درج ہے
رتن بائی محمد علی جناح
پیدائش 20فروری 1900
انتقال 20فروری 1929
یہ پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح کی بیوی کی قبر ہے ۔جنہوں نے جناح سے محبت کی اور والدین سے بغاوت کی اور ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے شاندار کمرے میں اپنی بیماری اور تنہائی سے لڑتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل دین شاپٹیٹ کی اکلوتی، حسین بیٹی رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا ۔ دین شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا ۔ ان میں بیرسٹر محمد علی جناح بھی تھے ۔ سترہ سالہ رتن کو جنہوں گھر کے لوگ بیار سے رتّی کہ کر پکارتے تھے ۔
لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹ بوٹ والے جناح کی پر مغز بحثوں نے اتنا متاثر کیا کہ وہ انہیں پسند کرنے لگیں ۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتّی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی اور وہ بھی ان سے کشش محسوس کرنے لگے تھے ۔1917کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈِنشا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہوئی چاہئیں ۔
عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈِنشا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا ۔بس پھر کیا تھا ، آتش پرست ڈِنشا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی ۔ ڈِنشا نے رتّی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگادی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی ۔
عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس ملاقات پر پابندی لگادی لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہوگی ۔جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ رتُی کا انتظار کیا اس درمیان جناح اور رتّی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے ۔ 20فروری1918کو پیٹٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتّی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں ۔ ڈِنشا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی ۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈِنشا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرادی ۔ اس کے بعد ڈِنشا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا ۔
19 اپریل 1918 کے روزنامہ اسٹیٹس مین میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی ۔ (رتی کا اسلامی نام مریم رکھا گیا تھا) کچھ لوگوں کا قیاس ہے کہ قبول اسلام اور نکاح کے لئے 19اپریل کی تاریخ رتی نے خود منتخب کی تھی کیونکہ یہ ماہ رجب کا ساتواں دن تھا جو حضرت عباس کا یوم پیدائش تھا ۔ ملحوظ رہے رتی اپنے والد کے ساتھ مجگاوں کے حسن آباد میں عاشورہ کے دن جایا کرتی تھیں ۔اس وقت جناح بھی وہاں موجود ہوتے تھے ۔ جناح اور رتی نے اپنی سہاگ رات نینی تال میں منائی تھی ۔
جناح اور رتّی کی محبت کی نشانی ان کی اکلوتی بیٹی 14 اگست 1919 کو پیدا ہوئی تھی۔ 28سال بعد ٹھیک اسی تاریخ کو پاکستان کا جنم ہوا تھا ۔ جناح اور رتی کی یہ باغی محبت زیادہ دنوں برقرار نہ رہی کیونکہ جناح رتی کے والد سے صرف تین سال چھوٹے تھے اور رتی سے تقریبا پچیس سال بڑے تھے ۔دونوں کے ذوق وشوق میں کافی فرق تھا ۔ جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سےاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا ۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ رتی نے اسے جناح کی بے التفاقی تصور کیا اور شادی کے دس سال بعد 1928میں انہوں نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کرکے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں ۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے ۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی ۔بی ہو گئی رتی کی ماں نے ان کا علاج یورپ لے جا کر کرایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی غرض کہ رتی نے جس مہینے اور جس تاریخ کو جنم لیا تھا اسی مہینے اسی تاریخ کو وہ موت سے ہم آغوش ہو ئیں ۔
ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے ۔بتایا جاتا ہے کہ ان کی موت کے بعد جناح جب بھی ممبئی میں ہوتے تو وہ ہر جمعرات کو خود سے کہیں زیادہ اپنی ضدی بیوی کی قبر پر حاضر ہوتے تھے ۔
آرام باغ قبرستان کے منتظم معصوم علی پیمانی نے بتایا کہ دوسال قبل جناح کی بیٹی دِینا اور نواسے نُسلی واڈیا ( مالک بامبے ڈائنگ) نے رتی کی قبر پر حاضری دی تھی ۔ اور قبر کی مرمت اور وہاں باؤنڈری بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن پھر وہ لوٹ کر نہیں آئے ۔
آج بانی پاکستان کی قبر پر روز بیسوں قرآن ختم ہوتے ہیں لیکن ان کی بیوی کی قبر پر محض درختوں کے پتوں کے سائےبرائے دعا بلند نظر آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستانی مسلم صحافی سید حسین افسر کے آخری جملے نے
مجھے ملکہ نورجہاں کا یہ مشہور شعر یاد دلا دیا۔
بر مزار ِ ما غریباں، نے چراغے، نے گُلے
نے پرِ پروانہ سوزد، نے صدائے بُلبُلے
۔۔ عبداللہ نور