واقعی یہ درست ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تیسری جماعت میں تھا تو یہ بندہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بناتا پھر رھا تھا ، اور آج بھی اس کا نعرہ یہئ ھے جو حقیقت نہ بن سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکا منسٹر بیس سال پہلے میں ویژن 2010 کے ساتھ آیا اور آج وہی احسن اقبال ویژن 2020 پیش کرتے پھر رھے ھیں۔
Name:  670295-nawazhappy-1392115154-460-640x480.jpg
Views: 1257
Size:  30.7 KB


نوازشریف 1982 سے 1985 تک وزیرخزانہ رہے لیکن تبدیلی نہیں لاسکے

پھر نوازشریف 1985 سے 1990 تک وزیر خزانہ رہے مگر انہیں عوام کی خدمت کرنے کا موقع نہیں مل سکا صرف اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی خدمت کرسکے۔
نوازشریف 1990 میں وزیراعظم بنے۔ پنجاب سمیت چاروں صوبوں میں ن لیگ کی حکومت قائم ہوئی مگر نوازشریف کو عوام کی خدمت کرنے کا موقع نہیں مل سکا صرف اپنی ہی خدمت کرسکے۔
نوازشریف 1997 میں وزیراعظم بنے۔ چھوٹا بھائی شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنا لیکن نوازشریف کو ایک بار پھر عوام کی خدمت کا موقع نہیں مل سکا اس بار بھی نوازشریف اور شہباز شریف صرف اپنی ہی خدمت کرسکے ۔
جدہ سے واپسی کے بعد 2008 میں پنجاب میں ن لیگ کی حکومت قائم ہوئی۔ شہبازشریف ایک بار پھر وزیراعلیٰ بنے ، 5 سال پنجاب پر حکومت کی لیکن ن لیگ کو ایک بار پھر عوام کی خدمت کرنے کا موقع نہ مل سکا۔اس بار بھی شریف برادران اپنی ہی خدمت کرسکے ۔
الیکشن 2013 میں نوازشریف وزیراعظم اور شہبازشریف وزیراعلیٰ بنے لیکن نوازشریف اور شہبازشریف کو ایک بار پھر عوام کی خدمت کا موقع نہیں مل رہا۔شریف برادران صرف اپنی ہی خدمت کررہے ہیں۔
اتناعرصہ حکومت کرے دونوں بھائیوں کو عوام کی خدمت کرنے کا موقع تو نہ مل سکا لیکن دونوں بھائیوں نے اپنی خدمت خوب کی ہے۔ جیسے لندن میں جائیدادیں، بزنس، سعودی عرب میں سٹیل مل، پاکستان میں مرغی، چینی، آٹا، دودھ، رئیل اسٹیٹ جیسے کاروبار، ہزاروں کنال پر مشتمل رائیونڈ پیلس وغیرہ
اتنا عرصہ حکومت کرکے بھی تعلیم، صحت، پٹواری کلچر، پولیس کلچر، چھوٹی عدالتیں، ٹرانسپورٹ سسٹم، ریلوے، پی آئی اے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوسکا۔ پاکستان کے ادارے نقصان میں جاتے رہے اور شریف برادران کے ادارے منافع میں جاتے رہے۔پی آئی اے خسارے میں لیکن سابق چئیرمین پی آئی اے اور موجودہ وزیر شاہد خاقان عباسی کی ائیرلائن منافع میں۔ اسٹیل مل خسارے میں لیکن شریف برادران کی سٹیل ملز منافع میں۔ ریلوے خسارے میں لیکن ارکان اسمبلی کی ٹرانسپورٹ کمپنیاں منافع میں۔
جب نوازشریف پہلی بار وزیراعظم بنا تو میں اس وقت تیسری کلاس میں پڑھا کرتا تھا۔ آج نوازشریف پھر وزیراعظم ہے اور میرا بیٹا تیسری کلاس میں ہے۔اس وقت بھی نوازشریف ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوے کیا کرتا تھا، آج بھی کررہا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا پوتا تیسری کلاس میں ہو اور اس وقت بھی کہیں نوازشریف وزیراعظم نہ ہو اورملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوے نہ کررہا ہو۔ اور یہ نہ کہہ رہا ہو کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جارہا اور ہم اس وقت بھی اپنا بیڑہ غرق کروا کر دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیرآیا کے نعرے لگارہےہیں