Name:  PA060150.JPG
Views: 190
Size:  82.0 KB

کل ایک بچپن کے دوست سے کافی سالوں بعد ملاقات ہوئی اور سارا دن اس کے ساتھ گزرا۔ صبح ناشتے کیلئے ایک مشہور سری پائے کی دکان پر لے گیا۔ وہاں گئے تو دیکھا کہ دکان کا مالک خود حلوہ پوری کا ناشتہ کر رہا تھا۔ میرے دوست نے کہا کہ جب مالک خود اپنا ناشتہ پسند نہیں کرتا تو ہم کیوں یہاں سے کھائیں؟

وہاں سے ہم ایک حلوہ پوری والے کے پاس چلے گئے۔ ادھر گئے تو اس کا مالک نان چنے کھا رہا تھا۔ میرے دوست نے پھر وہی دلیل پیش کی اور ہم
وہاں سے بھی نکل آئے اور کسی اچھے نان چنے والے کو تلاش کرنے نکل پڑے۔
کافی دیر بعد ایک مشہور مرغ چنے والے کے اڈے پر پہنچے۔ ادھر گئے تو اس کا مالک انڈا پراٹھا کھا رہا تھا۔ میرے دوست نے یہاں سے بھی کھانے سے انکار کردیا اور وہی کہا کہ جب اس کا مالک اپنا کھانا نہیں کھاتا تو ہم کیوں رسک لیں؟
وہاں سے ہم ایک پراٹھے والے سٹال پر پہنچ گئے۔ ادھر گئے تو بدقسمتی سے پراٹھا پکانے والا خود چائے رسک کھا رہا تھا۔ میرے دوست نے یہاں سے بھی کھانے سے انکار کردیا۔
اب میری حالت بھوک سے پتلی ہوچکی تھی اور ساتھ ساتھ غصہ بھی شدید آرہا تھا۔ گاڑی وہیں پارک کرکے سوچا کہ اب پیدل ہی کسی بیکری کو ڈھونڈا جائے اور وہاں سے بسکٹ، رسک وغیرہ خرید کر چائے سے کھائے جائیں۔
راستے میں جتنی بھی بیکریاں آئیں، میرے دوست نے ریجیکٹ کردیں کہ ان کے لوگ تو اپنی بیکری کی اشیا خود نہیں کھاتے تو ہم کیوں کھائیں۔
اب میری بس ہوچکی تھی۔ پیدل چلتے چلتے میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ پچھلے الیکشن میں کس جماعت کو ووٹ دیا تھا؟
اس نے بڑے فخر سے سینہ تان کر جواب دیا، شیروں کی جماعت، ن لیگ کو۔
میں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنا جوتا اتارا اور اپنے دوست کے سر پر مارنا شروع کردیا۔
میرا دوست حیران و پریشان مار کھا کر پوچھنے لگا کہ اسے کیوں مارا؟
میں نے جواب دیا:
جب شریف برادران اپنا علاج لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں نہیں کرواتے، جب ان کے بچے یہاں کاروبار نہیں کرتے، جب وہ پاکستان کی بنی اشیا استعمال نہٰں کرتے، تو پھر
کھوتے کے بچے،
تم انہیں ووٹ کیوں ڈالتے ہو؟؟؟؟
جب سر پر 8، 10 جوتے پڑ چکے تو میرا دوست بولا:
چلو پھر سری پائے ہی کھالیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
میں نے اس کے سر پر 8، 10 جوتے مزید برسا دیئے!!!
منقول