Name:  who is saying.jpg
Views: 102
Size:  107.0 KB




*** کہنے والے کو نا دیکھو یہ دیکھو کہا کیا جا رہا ہے ***
آجکل عوام الناس کی زبان پر یہ بات بہت مشہور ہے لیکن کیا یہ بات درست بھی ہے کہ نہیں؟ کیا ہمارے اسلاف بھی ایسے ہی کہتے تھے ؟
اللہ نے قرآن میں فرمایا
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا" (49:6)
اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی خبر کوئی بات بیان کی جائے تو یہ دیکھا جائے گا کہ بات کرنے والا کون ہے نہ کہ بات کیا بیان کی جا رہی ہے ۔ اگر تو بات کرنے والا فاسق ہے تو پھر اس بات کی تحقیق کی جائے گی اس کو لے نہیں لیا جائے گا مطلب بات کرنے والے کو دیکھا جائے گا ۔ اور اگر و فاسق نہیں بلکہ اہل ایمان ہے اور سچا ہے تو اس کی بات کو قبول کیا جائے گا۔ اہل ایمان کی گواہی کی تصدیق اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
"ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ثابت سے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس میت کی تعریف کی ، آپ نے فرمایا کہ واجب ہو گئی ، پھر دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی ، یا اس کے سوا اور الفاظ ( اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ) کہے ( راوی کو شبہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی فرمایا کہ واجب ہو گئی ۔ عرض کیا گیا ، یا رسول اللہ ! آپ نے اس جنازہ کے متعلق بھی فرمایا کہ واجب ہو گئی اور پہلے جنازہ پر بھی یہی فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان والی قوم کی گواہی ( بارگاہ الٰہی میں مقبول ہے ) یہ لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہیں ۔
"
صحیح بخاری 2642
اس سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان اللہ کے نزدیک جب مقبول ہیں اور زمین پر اللہ کے گواہ ہیں تو ان کی بات کو قبول کیا جائے گا۔
اسی طرح امام بخاری و مسلم کے استادوں کے استاد عظیم محدث "لإمام يحيى بن سعيد القطان" رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
"لا تنظروا إلى الحديث، ولكن انظروا إلى الإسناد، فإن صح الإسناد، وإلا؛ فلا تغتروا بالحديث إذا لم يصح الإسناد "
یہ نا دیکھو کہ کہا کیا جا رہا ہے بلکہ یہ دیکھو کے اس کے بیان کرنے والے صحیح ہیں (حدیث کی سند صحیح ہے؟ ) اور کہی جانے والی بات (حدیث) تم کو دوکھا نہ دے دے جبکہ اس کو بیان کرنے والے صحیح نا ہوں۔ (سند صحیح نا ہو۔)
اسی طرح امام عبدللہ بن مبارک کا قول ہے۔ کہ "الإسناد من الدين، لولا الإسناد؛ لقال مَنْ شاء ما شاء"
(مقدمہ صحیح مسلم: اسناد صحیح)
اسناد (بیان کرنے والوں کو دیکھنا کہ صحیح ہیں کہ نہیں) دین میں ہی داخل ہے۔ اگراسناد نہ ہوتی (بیان کرنے والوں کو پرکھا نا جاتا) تو جس کے دل میں جوکچھ آتا وہ کہہ ڈالتا۔
کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی فاسق یا جھوٹا شخص بات تو صحیح کرتا ہے لیکن اس سے اس کا مطلب اور مراد مسلمانوں اور عوام الناس گمراہ کرنا ہوتا ہے جیساکہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دور میں خوارج بھی قرآن کی آیت پڑھتے تھے لیکن اس آیت سے صحابہ کو کافر قرار دیتے تھے ان کے اس عمل پر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا کہ "كلمـــــة حــــــق أريد بـــــها باطـــــــل" کلمہ (جو کہا جا رہا ہے) وہ تو حق ہے سچ ہے لیکن اس سے جو مراد لی جارہی ہے وہ باطل ہے۔
(شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کہ ایک درس سے ماخوذ)