عمران خان نے امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ پارلیمنٹ اور عدالت میں اُٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے متاثرین کو معاوضہ بھی دیا جائے۔
اسلام آباد میں غیر سرکاری تنظیم فاؤنڈیشن برائے بنیادی حقوق نے پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے متاثرین کے بارے میں رپورٹ جاری کی۔
تقریب سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ اُن کی جماعت نے امریکی ڈرون حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا اور بھرپور آواز اُٹھائی ہے اور وہ اس معاملے کو دوبارہ اسمبلی میں اُٹھائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے معصوم شہریوں کے لواحقین کو معاوضہ دے۔
ڈرون حملوں پر غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2004 سے امریکہ نے پاکستان میں ڈرون حملے شروع کیے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اب تک 421 حملوں میں مجموعی طور پر چار ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں 200 بچے شامل ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ناانصافی پر خاموش رہنا شرمناک بات ہے اور ڈرون حملوں کے متاثرین کو معاوضہ دلوانے کے لیے اگر عدالت میں بھی جانا پڑا تو وہ جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے اُس وقت تک ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم نہیں کیا جب تک امریکی مغوی ڈرون حملے میں مارے نہیں گئے۔
عمران خان نے کہا کہ امریکہ نے خود کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے پاکستان کی معاونت سے ہوتے ہیں اور پاکستان نے ان حملوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے نام تک ظاہر نہیں کیے ہیں۔
پاکستان نے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی ہمیشہ سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اُس کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے اس کی خود مختاری کی خلف ورزی ہے لیکن خفیہ دستاویزات کے مطابق دونوں ملک باہمی تعاون سے ڈرون حملے کرتے ہیں۔
بشکریہ bbc news

Name:  12341160_953226468086354_8193158432186239921_n.jpg
Views: 991
Size:  27.4 KB