شرک
شر ک کسے کہتے ہیں ؟ شرک کی تعریف کیا ہے؟
شرک توحید کی ضد ہے ۔ شرک سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ٗ صفات ٗ عبادات ٗ حقوق و اختیارا ت ٗ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و الوہیت میں کسی غیر کو اللہ تعالیٰ کا شریک ( حصہ دار ) یا ہمسر (برابری والا) قرار دینا یا سمجھنا یا کسی کو اللہ کے ساتھ شمار کرنا یا شامل کرنا یا غیر اللہ کی تعظیم وعزت کرے جیسے اللہ کی تعظیم وتکریم کی جاتی ہے ٗ یا کسی غیر اللہ کی محبت میں غلو کرنا ٗ غیر اللہ کی عبادت اس لیے کرنا کے اللہ کا قرب حاصل ہو ٗ یہ سب شرک کی تعریف میں آتا ہے ٗ کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی ذات ٗ صفات ٗ عبادات ٗ حقوق و اختیارا ت ٗ ربوبیت و الوہیت میں یکتا اور تنہا ہے
شر ک کی کتنی قسمیں ہیں ؟
شرک کی دو قسمیں ہیں (۱)شرک اکبر (۲) شرک اصغر یا شرک خفی
شرک اکبر کسی کو اللہ کے برابر سمجھے یا اسکے بالمقابل جانے صرف اس پر موقوف نہیں ہے بلکہ شرک اکبر یہ ہوتا ہے کہ جو چیزیں اللہ نے اپنے واسطے اپنی ذات عالی کے لیے خاص کیں ہیں انسان کسی اور ہستی کو بھی یہ سارے کے سارے اختیارات و عبادات کا مستحق سمجھے مثلاً دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ٗ یا غیر اللہ سے دعا کرنا ٗ غیر اللہ یا مردوں یا غائب زندوں کو پکارنا ٗ غیر اللہ کے آگے سجدہ کرنا ٗ ذبیحہ کرنا (قربانی کرنا) ٗ نذر نیاز کرنا ٗ مثلاً آج کل لوگ پیروں (مرشدوں) ٗ پیغمبروں کو ٗ اماموں کو ٗ شہیدوں کو ٗ پریوں کو مشکل کے وقت پکارتے ہیں ٗ ان سے مرادیں مانگتے ہیں ٗ انکی منتیں کرتے ہیں ٗ اور حاجت پوری ہونےکے لیے انکی نذر ونیاز کرتے ہیں ٗ اور بلا کو ٹلنے کے لیے یا مصیبت دور ہونے کے لیے ان سے مدد مانگتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیارے بندے تھے اللہ انکی سنتا ہے یا ان کے واسطے سے مانگنے سے اللہ سنتا ہے یہ سب شرک اکبر ہے یا یوں کہتے ہیں اللہ تو سب سے بڑا ہے لیکن یہ فوت شدہ بزرگ اللہ کے نائب ہیں یہ بھی شرک ہے ٗ اگر کسی کا نام مثلاً عبدالنبی (یعنی نبی کا بندہ ) عبد الرسول ہو تو یہ بھی شرک ہے اسے چاہیے کہ اپنا نام فوراً بدل ڈالے اور دوسرا اچھا نام رکھ لے ٗ
(۱) اللہ تعالیٰ کی ذات میں شرک (شرک فی الذات) یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا بیٹا کہنا یا بیٹیاں کہنا ٗ
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ(سورة الشورى 42/11)
اس جیسی کوئی چیز نہیں ٗ ٗ کسی کو اللہ کا سایہ سمجھنا ٗ انسان کو اللہ کا جز ٗ اللہ کا نور سمجھنا
(۲)اللہ تعالیٰ کی صفات میں شرک (شرک فی الصفات) یہ ہے کہ یہ سمجھنا یا اعتقاد رکھنا کہ فلاں بزرگ ولی یا فوت شدہ بھی سب جانتا یا غیب جانتا ہے ٗ فلاں نجومی غیب بتا سکتا ہے ٗ قسمت بتا سکتا ہے ٗ یا قیامت فلاں واقعہ کے فوراً بعد ہوگی ٗ جس کسی نے جھوٹے معبودوں (معبودان باطل ) کی عبادت کی یا ان پر یقین رکھا وہ طاغوت ہے ٗ ہمارے فوت شدہ بزرگ سب سنتے ہیں ٗ سب دیکھ رہے ہیں یا با خبر ہیں ٗ یا رسول یا کوئی بزرگ ہماری محفل میں حاضر ہوتے ہیں کسی فوت شدہ کو حاضر و ناظر جاننا یہ سب شرک اکبر ہے
(۳)عبادات میں شرک (شرک فی العبادۃ) ۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ عبادات کیا ہیں (دعا ٗ نماز سجدہ ٗ روزہ ٗ حج قربانی نذر ونیاز وغیرہ ) عبادات میں شرک یہ ہے کہ غیر اللہ سے دعا کرنا ٗ (مردوں سے یا
فوت شدہ لوگوں سے دعا کرنا ان سے فریاد کرنا ) قربانی ٗ نذر و نیاز کرنا ٗ غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا ٗ غیر اللہ کے آگے سجدے کرنا ٗ کسی قبر کا طواف کرنا جیسے خانہ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے
أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ
(سورة يس 36/60)
ْ ْاے اولاد آدم ! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا
(۴)حقوق و اختیارات میں شرک ۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو سارے کا سارا اختیار ہے اللہ تعالیٰ قادر ہے ٗ کسی کو نفع یا نقصان دے ٗ مشکلیں اور مصائب دور کرے ٗ بیماری دور کرے شفاء دے ٗ ان مخصوص اللہ کے اختیارات میں کسی غیر اللہ کو بھی اگر مان لیا جائے کہ فلاں ہستی یا فوت شدہ بزرگ کو بھی کائنات میں تصرف حاصل ہے ٗ فلاں کو بھی اختیار ہے کہ ہماری حاجت پوری کرسکتا ہے (حاجت روا ہے ) ٗ ہماری
بگڑی بنا سکتا ہے ہماری دستگیری کر سکتا ہے ہمارا غوث ہے ٗ ہمارا مشکل کشا ہے ٗ یہ سب شرک اکبر ہے
(۵)اللہ تعالیٰ کی ربوبیت میں شرک یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو بھی خالق ٗ مالک ٗ روزی دینے والا سمجھنا ٗ مثلاً یہ بزرگ بھی اولاد دے سکتا ہے ٗ یہ قبر والا روزی روٹی دے سکتا ہے اور کچھ کرسکتا ہے ٗ اس بزرگ سے ڈرو ٗ ان صاحب قبر سے محبت رکھو ٗ یہ اللہ کے آگے ہماری سفارش کریں گے ٗ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے ورنہ ہماری رسائی یا پہنچ اللہ تک کیسے ہوسکتی ہے ٗ کسی فوت شدہ شخص کو اللہ کا وسیلہ سمجھنا
(۶)اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شرک یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو بھی الہٰ ماننا ٗ (الہٰ واحد صرف اللہ ہے)
لَّا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَـٰهًا آخَرَ (سورة الإسراء 17/22)
اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرا