بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی.....
اہلِ چیں چین میں،ایران میں ساسانی بھی.....
اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی...
اسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھی...
پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے.......
بات جو بگڑی ہوئی تھی،وہ بنائی کس نے...
بنی اغیار کی چاہنے والی دنیا....
رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دنیا....
ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا...
پهر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا...
ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے....
کہیں ممکن ہےکہ ساقی نہ رہے، جام رہے...
علامہ اقبال رح