Name:  trafic-1.jpg
Views: 951
Size:  147.6 KB


 


میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کل میرے بچوں کو ان کتوں کے سامنے ایسے ذلیل ہونا پڑے، اس لیے میں پرامن انداز میں اپنا علم احتجاج بلند کئے رکھوں گا۔ آپ کو اپنے بچوں کے لیے ایسا رویہ قبول ہے تو کرتے رہیں ذہنی غلامی۔ پڑھیں اور غور کریں اس ماخوذ تحریر پر

پچھلے کچھ عرصے سے حکمرانوں کے پروٹوکول میں شامل سیکیورٹی کے اہکاروں نے ایک نئی پریکٹس اختیار کی ھے۔ وہ قافلے میں شامل "اعلی" شخصیت کے آگے اور پیچھے تو گاڑیاں بھگا ہی رھے ہوتے ہیں، اور ان کا کاروان فاسٹ لین میں چل رہا ہوتا ھے، اب پولیس کی کچھ گاڑیاں ساتھ والی لین کے درمیان والے حصے پر بھی اپنے قافلے کے متوازی چلنا شروع ہوجاتی ھے۔
ایسا کرتے ہوئے وہ کم از کم 90 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا کر آتے ہیں، اور ساتھ والی لین میں گاڑی چلانے والے کو چب تک خبر ہوتی ھے، وہ ہوٹر بجاتے ہوئے ان کے سر پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ اگر بائیں یعنی آخری لین میں ٹریفک یا کسی بھی وجہ سے ان گاڑیوں کو جگہ نہیں ملتی تو وہ پولیس والے خوفناک طریقے سے اپنی بندوقیں سیدھی کرتے ہیں اور ہارن بجا کر گویا آپ کو آخری وارننگ دے دیتے ہیں۔ پھر وہ اپنی گاڑیاں آپ کے بونٹ کے پاس لے آتے ہیں اور پھر مجبوراً آپ کو درمیان والی لین بھی چھوڑ کر تیسری لین پر ہونا پڑتا ھے، چاھے ایسا کرتے ہوئے آپ کے ایکسیڈنٹ ہونے کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔
میں یہاں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ ایسا ابھی کچھ دن پہلے ہی میرے ساتھ ہوا تھا۔ سب سے فاسٹ لین پر تو وہ اعلی شخصیت اور اس کا قافلہ چل ہی رہا تھا، میں دوسری لین میں ڈرائیو کررہا تھا، میوزک کچھ اونچی آواز میں تھا اس لئے مجھے ہارن کی آواز نہ آئی۔ سائیڈ مرر میں نظر پڑی تو اپنے دائیں طرف پروٹوکول کی گاڑیوں اور میری گاڑی کے درمیان کم از کم تین پولیس کی جیپیں آ چکی تھیں اور ان میں موجود پولیس اہلکاروں نے اپنی بندوقیں میری طرف تانی ہوئی تھیں۔ میں چارو ناچار اپنی وہ لین چھوڑ کر تیسری لین میں چلا گیا اور ایسا کرتے ہوئے پیچھے آنے والی گاڑی کی ٹکر ہوتے ہوتے بچی۔
یہ سارا واقعہ مجھے ایک خبر پڑھ کر یاد آیا کہ کل بہاولپور ائیرپورٹ پر وزیراعظم کے طیارے کی لینڈنگ کے دوران ایک کتا سامنے آگیا، جس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے وزیراعظم کے ہوائی مشیر نے ائیرپورٹ مینجر کو فوری طور پر معطل کردیا۔
وزیراعظم کے طیارے کی ٹیکسی کے دوران سامنے ایک کتا آجائے تو ائیرپورٹ مینجر معطل،
اور عام عوام کے سامنے حکمران آجائیں تو بھی عام انسان کی زندگی خطرے میں۔