Results 1 to 2 of 2

Thread: Importance of Salah !!! Arabic/Urdu/English

  1. #1
    Member Array Naveed Farooq's Avatar
    Join Date
    Mar 2011
    Posts
    1,179
    Rep Power
    8

    Importance of Salah !!! Arabic/Urdu/English

    Name:  2.jpg
Views: 1159
Size:  47.5 KB
    حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ وَيَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ عِکْرِمَةُ وَلَقِيَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَی الشَّامِ وَأَثْنَی عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ کُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَی ضَلَالَةٍ وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَی شَيْئٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَکَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَی رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَئَائُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْتَ قَالَ أَنَا نَبِيٌّ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيٌّ قَالَ أَرْسَلَنِي اللَّهُ فَقُلْتُ وَبِأَيِّ شَيْئٍ أَرْسَلَکَ قَالَ أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ وَکَسْرِ الْأَوْثَانِ وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَکُ بِهِ شَيْئٌ قُلْتُ لَهُ فَمَنْ مَعَکَ عَلَی هَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قَالَ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ فَقُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُکَ قَالَ إِنَّکَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِکَ يَوْمَکَ هَذَا أَلَا تَرَی حَالِي وَحَالَ النَّاسِ وَلَکِنْ ارْجِعْ إِلَی أَهْلِکَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنِي قَالَ فَذَهَبْتُ إِلَی أَهْلِي وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَکُنْتُ فِي أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّی قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَقَالُوا النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِکَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَکَّةَ قَالَ فَقُلْتُ بَلَی فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَکَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ أَخْبِرْنِي عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّی تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْئُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ قَالَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوئَ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ مَا مِنْکُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوئَهُ فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَی الْکَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَی هَذَا الرَّجُلُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ وَلَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّی عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا وَلَکِنِّي سَمِعْتُهُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ


     

  2. #2
    Member Array Naveed Farooq's Avatar
    Join Date
    Mar 2011
    Posts
    1,179
    Rep Power
    8


    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1924 حدیث مرفوع مکررات 23 متفق علیہ 5
    احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبداللہ ، ابوعمار، یحیی بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی قوم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) تک پہنچ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے میں نے عرض کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کون ہیں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کرتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے پہچانتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں مجھے نماز کے بارے میں خبر دیجئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہو جائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے پھر نماز سے رکے رہو کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کئے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں میں نے عرض کیا وضو کے بارے میں بھی کچھ بتائیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور پانی ناک میں ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں کہ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ انگلیوں کے پوروں کی طرف سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمد وثناء اور اس کی بزرگی اور اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کرلے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہو جاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے چنانچہ عمرو بن عبسہ نے اس حدیث کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابی حضرت ابوامامہ (رض) سے بیان کیا تو حضرت ابوامامہ (رض) نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو کیا ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے تو حضرت عمرو بن عبسہ (رض) کہنے لگے اے ابوامامہ میں بڑی عمر والا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ سات مرتبہ بھی سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو اس سے بھی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔




    'Amr b. 'Abasa Sulami reported: I in the state of the Ignorance (before embracing Islam) used to think that the people were in error and they were not on anything (which may be called the right path) and worshipped the idols. In the meanwhile I heard of a man in Makkah who was giving news (on the basis of his prophetic knowledge) ; so I sat on my ride and went to him. The Messenger of Allah (may peace be upon him) was at that time hiding as his people had made life hard for him. I adopted a friendly attitude (towards the Makkahns and thus managed) to enter Makkah and go to him (the Holy Prophet) and I said to him: Who are you? He said: I am a Prophet (of Allah). I again said: Who is a Prophet? He said: (I am a Prophet in the sense that) I have been sent by Allah. I said: What is that which you have been sent with? He said: I have been sent to join ties of relationship (with kindness and affection), to break the Idols, and to proclaim the oneness of Allah (in a manner that) nothing is to be associated with Him. I said: Who is with you in this (in these beliefs and practices)? He said: A free man and a slave. He (the narrator) said: Abu Bakr and Bilal were there with him among those who had embraced Islam by that time. I said: I intend to follow you. He said: During these days you would not be able to do so. Don't you see the (hard) condition under which I and (my) people are living? You better go back to your people and when you hear that I have been granted victory, you come to me. So I went to my family. I was in my home when the Messenger of Allah (may peace be upon him) came to Medina. I was among my people and used to seek news and ask people when he arrived in Medina. Then a group of people belonging to Yathrib (Medina) came. I said (to them): How is that person getting on who has come to Medina? They said: The people are hastening to him, while his people (the polytheists of Makkah) planned to kill him, but they could not do so. I (on hearing It) came to Medina and went to him and said: Messenger of Allah, do you recognise me? He said: Yes, you are the same man who met me at Makkah. I said: It is so. I again said: Prophet of Allah, tell me that which Allah has taught you and which I do not know, tell me about the prayer.
    He said: Observe the dawn prayer, then stop praying when the sun is rising till it Is fully up, for when it rises it comes up between the horns of Satan, and the unbelievers prostrate themselves to it at that time. Then pray, for the prayer is witnessed and attended (by angels) till the shadow becomes about the length of a lance; then cease prayer, for at that time Hell is heated up. Then when the shadow moves forward, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels, till you pray the afternoon prayer, then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of devil, and at that time the unbelievers prostrate themselves before it. I said: Apostle of Allah, tell me about ablution also. He said: None of you who uses water for ablution and rinses his mouth, snuffs up water and blows it, but the sins of his face, and his mouth and his nostrils fall out. When he washes his face, as Allah has commanded him, the sins of his face fall out from the end of his beard with water. Then (when) he washes his forearms up to the elbows, the sins of his arms fall out along with water from his finger-tips. And when he wipes his head, the sins of his head fall out from the points of his hair along with water. And (when) he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall out from his toes along with water. And if he stands to pray and praises Allah, lauds Him and glorifies Him with what becomes Him and shows wholehearted devotion to Allah, his sins would depart leaving him (as innocent) as he was on the day his mother bore him. 'Amr b. 'Abasa narrated this hadith to Abu Umama, a Companion of the Messenger of Allah (may peace be upon him), and Abu Umama said to him: 'Amr b. 'Abasa, think what you are saying that such (a great reward) is given to a man at one place (only in the act of ablution and prayer). Upon this 'Amr said: Abu Umama, I have grown old and my bones have become weak and I am at the door of death; what impetus is there for me to attribute a lie to Allah and the Messenger of Allah (may peace be upon him)? Had I heard it from the Messenger of Allah (may peace be upon him) once, twice, or three times (even seven times), I would have never narrated it, but I have heard it from him on occasions more than these.
    Sahih Muslim, Volume 1, Hadith No. 1924

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)







Similar Threads

  1. Perform Salah
    By Tahir Bati in forum Religion
    Replies: 0
    Last Post: 07-18-2013, 10:25 AM
  2. urdu - soochnay ki salah'iat
    By Tahir Bati in forum Inspirations
    Replies: 0
    Last Post: 03-19-2013, 06:55 PM
  3. Salah
    By Tahir Bati in forum Religion
    Replies: 0
    Last Post: 02-18-2013, 06:24 PM
  4. Replies: 0
    Last Post: 12-25-2012, 02:14 PM
  5. Replies: 0
    Last Post: 01-28-2009, 01:10 PM

Tags for this Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •