Name:  12187687_926330080768281_2332210694800999901_n.jpg
Views: 306
Size:  107.6 KB



یہ تصویر کل رات شہبازشریف کے فیس بک پیج پر شئیر ہوئی اور پھر میں مزید کچھ نہ دیکھ سکا اور لیپ ٹاپ بند کرکے سوگیا۔
پوسٹ میں بتایا گیا ھے کہ خادم اعلی اس 10 سالہ بدقسمت بچے سے مل رھے ہیں جس کے دونوں بازو گجرات کے کسی وڈیرے نے کاٹ دیئے تھے۔ خادم اعلی کہتے ہیں کہ اس وڈیرے کے خلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے اور اس بچے کے بہن بھائیوں کی تعلیم کے اخراجات حکومت اٹھائے گی۔
میرے چند سوالات حکمرانوں سے
------------------------------------------
اگر یہی ظلم تم میں سے کسی کے بچے کے ساتھ ہوتا تو کیا تم روٹین کی محکمہ جاتی کاروائی پر مطمئن ہوجاتے؟


کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی یا پھر پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلاتے، وہاں ان معصوم بچوں کو ہمیشہ کیلئے اپاہج بنانے والے درندوں کیلئے سخت سے سخت سزا کا قانون پاس کرواتے جو کہ پھانسی سے زیادہ عبرتناک ہوتا، جیسے کہ سنگساری۔


اگر اس بچے سے ملنا ہی تھا تو کیا پینٹ کوٹ ٹائی ضروری تھی؟ پہلے سے موجود طبقاتی فرق کو مزید بڑھانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس دیہاتی بچے سے ملنے کیلئے عام لباس کا انتخاب بھی ہوسکتا تھا۔


آخری لیکن سب سے اہم سوال، ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے شریف برادران نے کیا کیا ھے؟ موجودہ اسمبلیوں نے کیا کیا ھے؟ اراکین اسمبلی نے کیا کرلیا اور معاشرے کے دوسرے طبقات نے کیا کیا؟


لعنت ہو اس معاشرے پر جہاں غریب کے دس سالہ بچے کے بازو کاٹ کر اس کے بہن بھائیوں کو فری تعلیم دے کر واہ واہ اور داد سمیٹی جائے۔