Name:  12182686_10208500387253070_3440674051019057368_o.jpg
Views: 186
Size:  153.3 KB
اسلام آباد(شبیرسہام سے )وفاقی پولیس کی باوردی لیڈی کانسٹیبل پر پیپلزپارٹی کی خاتون ایم این اے کی طرف سے تھپڑمارنے اور گالیاں دیئے جانے کے واقعہ اور ایم این اے کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعدکئی اہم شخصیات اس لڑائی میں مصالحت کا کردار اداکرنے میدان میں کود پڑے ہیں۔تاہم دوسری طرف لیڈی کانسٹیبل اور پولیس حکام نے اس معاملہ کووردی کی توہین قراردیتے ہوئے کسی بھی طورپر صلح نہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔جس کے بعد اس معاملہ نے مزید طول پکڑ لیاہے۔معلوم ہواہے کہ 20اکتوبرکو پارلیمنٹ لاجزکی سیکیورٹی پر مامور وفاقی پولیس کی خوبرولیڈی کانسٹیبل افشاں نازحسب معمول اپنے دیگر پولیس ملازمین کے ہمراہ ڈیوٹی پر موجود تھی کہ پارلیمنٹ لاجز کے روم نمبرای 403میں رہائش پذیرسندھ حلقہ 320سے منتخب پیپلزپارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شاہ جہان مینگریو نے استقبالیہ پر فون کیاجو کانسٹیبل افشاں ناز نے اٹھایا۔خاتون ایم این اے نے انہیں اپنے کمرے میں آنے کو کہاجس پر لیڈی کانسٹیبل نے آنے سے انکار کیاتو وہ سیخ پاہوگئیں اور فون پر گرجنے کے تقریباً پانچ سے سات منٹ کے بعد وہ آﺅٹ گیٹ سے آئیں اور آتے ہی لیڈی کانسٹیبل کے منہ پر زوردار تھپڑدے ماراجس پر وہ زمین پر گرگئی۔ایم این اے نے مبینہ طورپر غلیظ زبان استعمال کیااور وہاں سے نکل پڑئیں۔ لیڈی کانسٹیبل افشاں ناز نے اپنے افسران کوواقعہ سے آگاہ کیا۔جس پر ایک تحریری درخواست اندراج مقدمہ کے لئے پولیس حکام کو دی گئی ۔یوں واقعہ کے اگلے روز 21اکتوبرکو تھانہ ویمن میں ایم این اے شاہ جہان مینگریوکے خلاف مقدمہ نمبر27زیردفعات 353/186درج ہوا۔معلوم ہواہے کہ اب دونوں خواتین میں راضی نامہ کروانے کے لئے کئی اہم شخصیات بھی کودپڑے ہیں جو بدستورلیڈی کانسٹیبل کو منانے کی کوشش میں ہیں ۔تاہم دوسری طرف لیڈی کانسٹیبل اورسینئرپولیس حکام نے اس معاملہ کو وردی پر حملہ اورسخت توہین قراردیتے ہوئے کسی طورپر صلح نہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ ایم این اے شاہ جہاں مینگریونے کچھ عرصہ قبل اپنی ملازمہ کو بھی بری طرح تشددکانشانہ بنایااور اس پر چوری کاالزام لگاکر مقدمہ بھی درج کرایاتھا