"ماتم" کیا ہے؟
نیکی؟ "نہیں"
ثواب؟ "نہیں"
اللہ سےمعافی؟ "نہیں"
حضرت آدم علیہ السلام نےکیا؟ "نہیں"
اللہ کا حکم؟ "نہیں"
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا؟ "نہیں"
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا؟ "نہیں"
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نےکیا؟ "نہیں"
اماموں نےکیا؟ "نہیں"
قرآن میں ہے؟ "نہیں"
حدیث میں ہے؟ "نہیں"
حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا؟ "نہیں"
تو یہ کس کی ایجاد ہے؟
پتا نہیں....!


Al-Bukhaari (1294) and Muslim (103) narrated that ‘Abd-Allaah ibn Mas’ood (may Allaah be pleased with him) said: The Prophet said: “He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, or cries with the cry of the Jaahiliyyah.”




س… ماتمی جلوس کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟ کب اور کیسے ایجاد ہوئے؟ نیز یہ کہ حالیہ واقعات میں علمائے اہلِ سنت نے کیا تجاویز پیش کیں؟


ج… محرّم کے ماتمی جلوسوں کی بدعت چوتھی صدی کے وسط میں معزالدولہ دیلمی نے ایجاد کی، شیعوں کی مستند کتاب “منتہی الآمال” (ج:۱ ص:۴۵۳) میں ہے:


“جملہ (ای موٴرّخین) نقل کردہ اند کہ ۳۵۲ھ (سی صد وپنجاہ و دو) روز عاشور معزالدولہ دیلمی امر کرد اہلِ بغداد رابہ نوحہ ولطمہ وماتم بر اِمام حسین وآنکہ زنہا مویہا را پریشان و صورتہا را سیاہ کنند وبازارہا رابہ بندند، وبرد کانہا پلاس آویزاں نمائند، وطباخین طبخ نہ کنند، وزنہائے شیعہ بیروں آمدند در حالیکہ صورتہا رابہ سیاہی دیگ وغیرہ سیاہ کردہ بودند وسینہ می زدند، ونوحہ می کردند، سالہا چنیں بود۔ اہلِ سنت عاجز شدند از منع آں، لکون السلطان مع الشیعة۔”


ترجمہ:… “سب موٴرِّخین نے نقل کیا ہے کہ ۳۵۲ھ میں عاشورہ کے دن معزالدولہ دیلمی نے اہلِ بغداد کو اِمام حسین رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرنے، چہرہ پیٹنے اور ماتم کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ عورتیں سر کے بال کھول کر اور منہ کالے کرکے نکلیں، بازار بند رکھے جائیں، دُکانوں پر ٹاٹ لٹکائے جائیں اور طباخ کھانا نہ پکائیں۔ چنانچہ شیعہ خواتین نے اس شان سے جلوس نکالا کہ دیگ وغیرہ کی سیاہی سے منہ کالے کئے ہوئے تھے اور سینہ کوبی و نوحہ کرتی ہوئی جارہی تھیں۔ سالہا سال تک یہی رواج رہا اور اہلِ سنت اس (بدعت) کو روکنے سے عاجز رہے، کیونکہ بادشاہ شیعوں کا طرف دار تھا۔”


حافظ ابنِ کثیر نے “البدایہ والنہایہ” میں ۳۵۲ھ کے ذیل میں یہی واقعہ اس طرح نقل کیا ہے:


“فی عاشر المحرّم من ھٰذہ السنة أمر معزالدولة بن بویہ -قبحہ الله- ان تغلق الأسواق، وان یلبس النساء المسوج من الشعر، وأن یخرجن فی الأسواق حاسرات عن وجوھھن ناشرات شعورھن یلطمن وجوھھن ینحن علی الحسین بن علی بن أبی طالب۔ ولم یکن أھل السنّة منع ذٰلک لکثرة الشیعة وظھورھم وکون السلطان معھم۔”


(البدایہ والنہایہ ج:۱۱ ص:۲۴۳)


ترجمہ:… “اس سال (۳۵۲ھ) کی محرّم دسویں تاریخ کو معزالدولہ بن بویہ دیلمی نے حکم دیا کہ بازار بند رکھے جائیں، عورتیں بالوں کے ٹاٹ پہنیں اور ننگے سر، ننگے منہ، بالوں کو کھولے ہوئے، چہرے پیٹتی ہوئی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرتی، بازاروں میں نکلیں، اہلِ سنت کو اس سے روکنا ممکن نہ ہوا، شیعوں کی کثرت و غلبہ کی وجہ سے اور اس بنا پر کہ حکمران ان کے ساتھ تھا۔”


اس سے واضح ہے کہ چوتھی صدی کے وسط تک اُمت ان ماتمی جلوسوں سے یکسر ناآشنا تھی، اس طویل عرصے میں کسی سنی اِمام نے تو درکنار، کسی شیعہ مقتداء نے بھی اس بدعت کو روا نہیں رکھا، ظاہر ہے کہ ان ماتمی جلوسوں میں اگر ذرا بھی خیر کا پہلو ہوتا تو خیرالقرون کے حضرات اس سے محروم نہ رہتے، حافظ ابنِ کثیر کے بقول:


“وھٰذا تکلف لا حاجة الیہ فی الاسلام، ولو کان ھٰذا امرًا محمودًا لفعلہ خیر القرون وصدر ھٰذہ الأُمَّة وخیرتھا۔ وھم أوْلٰی بہ ولو کان خیر ما سبقونا الیہ وأھل السنة یقتدون ولا یبتدعون۔”


(البدایہ والنہایہ ج:۱۱ ص:۲۵۴)


ترجمہ:… “اور یہ ایک ایسا تکلف ہے جس کی اسلام میں کوئی حاجت و گنجائش نہیں، ورنہ اگر یہ اَمر لائقِ تعریف ہوتا تو خیرالقرون اور صدرِ اوّل کے حضرات جو بعد کی اُمت سے بہتر و افضل تھے، وہ اس کو ضروری کرتے کہ وہ خیر و صلاح کے زیادہ مستحق تھے، پس اگر یہ خیر کی بات ہوتی تو وہ یقینا اس میں سبقت لے جاتے اور اہلِ سنت، سلف صالحین کی اقتدا کرتے ہیں، ان کے طریقے کے خلاف نئی بدعتیں اختراع نہیں کیا کرتے۔”


الغرض جب ایک خود غرض حکمران نے اس بدعت کو حکومت و اقتدار کے زور سے جاری کیا اور شیعوں نے اس کو جزوِ ایمان بنالیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اگلے ہی سال یہ ماتمی جلوس سنی شیعہ فساد کا اکھاڑا بن گیا اور قاتلینِ حسین نے ہر سال ماتمی جلوسوں کی شکل میں معرکہٴ کربلا برپا کرنا شروع کردیا، حافظ ابنِ کثیر ۳۵۳ھ کے حالات میں لکھتے ہیں:


“ثم دخلت سنة ثلاث وخمسین وثلاث مائة، فی عاشر المحرّم منھا عملت الرافضة عزأ الحسین کما تقدم فی السنة الماضیة، فاقتتل الروافض أھل السُّنَّة فی ھٰذا الیوم قتالًا شدیدًا وانتھبت الأموال۔”


(البدایہ والنہایہ ج:۱۱ ص:۲۵۳)


ترجمہ:… “پھر ۳۵۳ھ شروع ہوا تو رافضیوں نے دس محرّم کو گزشتہ سال کے مطابق ماتمی جلوس نکالا، پس اس دن روافض اور اہلِ سنت کے درمیان شدید جنگ ہوئی اور مال لوٹے گئے۔”


چونکہ فتنہ و فساد ان ماتمی جلوسوں کا لازمہ ہے، اس لئے اکثر و بیشتر اسلامی ممالک میں اس بدعتِ سیئہ کا کوئی وجود نہیں، حتیٰ کہ خود شیعی ایران میں بھی اس بدعت کا یہ رنگ نہیں جو ہمارے ہاں کربلائی ماتمیوں نے اختیار کر رکھا ہے، حال ہی میں ایران کے صدر کا بیان اخبارات میں شائع ہوا، جس میں کہا گیا:


“عَلم اور تعزیہ غیراسلامی ہے۔ عاشورہ کی مروّجہ رُسوم غلط ہیں۔ ایران کے صدر خامنہ ای کی تنقید۔ تہران (خصوصی رپورٹ) ایران کے صدر خامنہ ای نے کہا ہے کہ یومِ عاشورہ پر اِمام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ کرنے کے مروّجہ طریقے یکسر غلط اور غیراسلامی ہیں۔ اسلام آباد کے انگریزی اخبار “مسلم” کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سربراہِ مملکت نے نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ طریقہ نمود و نمائش پر مبنی اور اسلامی اُصولوں کے منافی ہے۔ فضول خرچی اور اِسراف ہمیں اِمام حسین رضی اللہ عنہ کے راستے سے دُور کردیتا ہے۔ انہوں نے عَلم اور تعزیے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خواہ یہ محراب و گنبد کی شکل میں ہی کیوں نہ ہوں، یاد تازہ کرنے کی اسلامی شکل نہیں، ان نمائشی چیزوں پر رقم خرچ کرنا حرام ہے اور عاشورہ کی رُوح کے منافی ہے، کیونکہ یومِ عاشورہ تفریح کا دن نہیں ہے۔ اِمام خمینی کے فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر خامنہ ای نے کہا کہ مذہبی تقریبات کے دوران لاوٴڈ اسپیکر کو بہت اُونچی آواز میں استعمال نہیں کرنا چاہئے اور عزاداری کے مقام پر بھی پڑوسیوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچانا چاہئے۔ لوگوں کو ماتم کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی اس رسم کو لوگوں کے لئے تکلیف دہ ہونا چاہئے۔”


(روزنامہ “جنگ” کراچی پیر ۱۹/ محرم ۱۴۰۵ھ، ۱۵/اکتوبر ۱۹۸۴ء)


ہند و پاک میں یہ ماتمی جلوس انگریزوں کے زمانے میں بھی نکلتے رہے اور “اسلامی جمہوریہ پاکستان” میں بھی ان کا سلسلہ جاری رہا، اہلِ سنت نے اکثر و بیشتر فراخ دِلی و رواداری سے کام لیا اور فضا کو پُرامن رکھنے کی کوشش کی، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود کبھی یہ بدعت فتنہ و فساد سے مبرا نہیں رہی۔ انگریزوں کے دور میں تو ان ماتمی جلوسوں کی اجازت قابلِ فہم تھی کہ “لڑاوٴ اور حکومت کرو” انگریزی سیاست کی کلید تھی، لیکن یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اس فتنہ و فساد کی جڑ کو کیوں باقی رکھا گیا جو ہر سال بہت سی قیمتی جانوں کے ضیاع اور ملک کے دو طبقوں کے درمیان کشیدگی اور منافرت کا موجب ہے․․․؟ بظاہر اس بدعتِ سیئہ کو جاری رکھنے کے چند اسباب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارے اربابِ حل و عقد نے ان ماتمی جلوسوں کے حسن و قبح پر نہ تو اسلامی نقطہٴ نظر سے غور کیا اور نہ ان معاشرتی نقصانات اور مضرتوں کا جائزہ لیا جو اِن تمام ماتمی جلوسوں کے لازمی نتائج کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ایک نظام جو انگریزوں کے زمانے سے چلا آتا تھا انہوں نے بس اسی کو جوں کا توں برقرار رکھنا ضروری سمجھا اور اس میں کسی تبدیلی کو شانِ حکمرانی کے خلاف تصوّر کیا۔ عاشورائے محرّم میں جو قتل و غارت اور فتنہ و فساد ہوتا ہے، وہ ان کے خیال میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں جس پر کسی پریشانی کا اظہار کیا جائے، یا اسے غور و فکر کے لائق سمجھا جائے۔ دُوسرا سبب یہ کہ اہلِ سنت کی جانب سے ہمیشہ فراخ قلبی و رواداری کا مظاہرہ کیا گیا، اور ان شرانگیز ماتمی جلوسوں پر پابندی کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور ہمارے حکمرانوں کا مزاج ہے کہ جب تک مطالبے کی تحریک نہ اُٹھائی جائے وہ کسی مسئلے کو سنجیدہ غور و فکر کا مستحق نہیں سمجھتے۔


جنابِ صدر کراچی تشریف لائے اور مختلف طبقات سے ملاقاتیں فرمائیں، سب سے پہلے شیعوں کو شرفِ باریابی بخشا گیا، آخر میں مولانا محمد بنوری، مولانا مفتی ولی حسن اور مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کی باری آئی، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے نہایت متانت و سنجیدگی اور بڑی خوبصورتی سے صورتِ حال کا تجزیہ پیش کیا، لیکن اہلِ سنت کی اشک شوئی کا کوئی سامان نہ ہوا۔


اہلِ سنت بجا طور پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ:


۱:… ان ماتمی جلوسوں پر پابندی عائد کی جائے۔


۲:… جن شرپسندوں نے قومی و نجی املاک کو نقصان پہنچایا ہے ان کو رہزنی و ڈکیتی کی سزا دی جائے۔


۳:… اہلِ سنت کی جن املاک کا نقصان ہوا، ان کا پورا معاوضہ دِلایا جائے۔


۴:… اہلِ سنت کے جن رہنماوٴں کو “جرمِ بے گناہی” میں نظربند کیا گیا ہے، ان کو رہا کیا جائے۔


حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ

Name:  6715516779_2501cb4d54.jpg
Views: 27
Size:  133.7 KB


 



Name:  ae400acf743028ea609810ebf39cbf06.jpg
Views: 37
Size:  69.3 KB

Name:  maxresdefault.jpg
Views: 23
Size:  197.1 KB