نواز شریف کا امریکا بلاوا اور پاکستان کا نیوکلیر میزائل پروگرام ۔۔۔۔


Name:  tumblr_inline_nad429AA341shxpr4.jpg
Views: 81
Size:  14.3 KBName:  670295-nawazhappy-1392115154-460-640x480.jpg
Views: 257
Size:  30.7 KB
امریکی مفرور جاسوس ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق امریکہ صرف پاکستان کے نیوکلئیر اثاثوں کی جاسوسی کے لیے سالانہ 23 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اب تک یہ پتہ نہیں چلا سکا ہے کہ پاکستان نیوکلئیر مواد کی نقل و حرکت کیسے کرتا ہے ۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ نے نواز شریف کو " نیوکلئیر سپلائر گروپ " کا ممبر بننے کی پیشکش کی ہے جس کے بعد پاکستان سول مقاصد کے لیے نیوکلئیر مواد کی خرید و فروخت کر سکے گا ۔ جس سے پاکستان کو چند لاکھ ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے ۔
تاہم اس ممبر شپ کے بدلے پاکستان کے نیوکلئیر میزائلز کی رینج کو کم کر کے انڈیا تک محدود کرنے کا مطالبہ کیا جائیگا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک بین الا قوامی" غیر جانبدار ٹیم " کے پاکستان کے میزائل پروگرام تک رسائی دی جائیگی جو ہمارے نیوکلئیر پروگرام کی نگرانی کر سکے گی ۔
وہ کام جو امریکہ کئی سو ارب ڈالر خرچ کر کے بھی نہ کر سکا تھا مفت میں ہو جائیگا ۔۔!
ایک طرف ہمارے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہوجائینگے تو دوسری طرف اسرائیل ہمارے میزائلز کی رینج سے محفوظ ہو جائیگا لیکن ہم مستقل طور پر اسرائیلی میزائلز اور ان کے خلیج کے سمندروں میں حرکت کرتے ہوئے ایٹمی آبدوزوں کی زد میں رہینگے ۔ پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے بارے میں مطلوبہ ساری معلومات مل جانے کے بعد اگر اسرائیل پاکستان کے نیوکلئیر اثاثوں پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔
اسرائیل ایسا کیوں کرے گا اس کا بھی ایک پس منظر ہے۔ !
خلیج اس وقت ایک بڑی جنگ کے دھانے پر ہے ۔ ایک ایسی جنگ جس کے بعد دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جائیگی اور اسرائیل اپنی موجودہ حدود سے باہر نکل کر مدینے تک جانے کی کوشش کرے گا ۔
ایک نیوکلئیر پاکستان اس " بڑے کھیل " کو بری طرح سے چوپٹ کر سکتا ہے ۔
" پاکستان " نامی خطرے کا احساس اسرائیل کو اپنے قیام کے ساتھ ہی ہو گیا تھا اور 67 اور 73 کی عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان سے ٹکراؤ کا تلخ تجربہ بھی ہو گیا ۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ پاکستان نے 80ء کی دہائی میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی جس کے بعد پاکستان سب سے بڑا خطرہ بن گیا ۔ پاکستان کو اس صلاحیت سے محروم کرنے کی اسرائیل نے بہت سی کوششیں کیں جن میں پاکستان کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے تک کا منصوبہ شامل ہے ۔
پرویز مشرف نے اپنے دور میں پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کو تیز رفتار ترقی دی جسکے بعد اسرائیل براہ راست پاکستانی نیوکلئیر میزائلز کی زد میں آگیا ۔
پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے خلاف اسرائیل اور اس کے " فرنٹ مین " امریکہ کی کوششیں مزید تیز ہوگئیں ۔
آصف زرداری کی جمہوری دور حکومت میں امریکہ کی ایک خوفناک پیشکش کی خبریں سننے میں آئیں تھیں جس میں مبینہ طور پر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے بدلے 100 ارب ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی ۔ جس کو سن کر یقیناً اس وقت کی جمہوری حکومت کے 14 طبق روشن ہوگئے تھے ۔ ظاہر ہے پاک فوج کے ہوتے ہوئے ایسی کسی پیشکش کو قبول کرنا ممکن نہیں تھا تب پاک فوج کو ہی بیچ میں سے نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ آپ یاد کیجیے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے اور حسین حقانی کی پاک فوج کے خلاف امریکہ سے مدد طلب کرنے کا معاملہ جو سپریم کورٹ تک گیا تھا اور افتخار چودھری نے کمال مہارت سے آصف زرداری اور حسین حقانی دونوں کو بچا لیا تھا ۔
نواز شریف کا 22 اکتوبر کو امریکہ کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔
پاکستان کو " نیوکلئیر سپلائر گروپ " کا ممبر بنانے کے لیے کئی شرائط پیش کی جائینگی مثلاً۔۔
" نو فرسٹ یوز ٹریٹی " پر دستخط جس کے تحت پاکستان ایٹمی حملے میں کبھی پہل نہیں کرے گا ۔ ہاں کسی نے پاکستان پر ایٹمی حملہ کر دیا تب پاکستان جواب دے گا اگر جواب دینے کے قابل رہا اور پاکستان میں موجود کشمیری مجاہدین کے خلاف کاروائی وغیرہ "دہشت گردوں" کے خلاف کاروائی وغیرہ ۔




 





لیکن یہ باقی ساری شرائط نمائشی ہونگی تاکہ نواز شریف ان کو مسترد کر کے قوم کو بتا سکے کہ " میں نے انکی بہت سی شرائط نہیں مانیں "


اصل کھیل اسرائیل کو پاکستانی میزائلز کی رینج سے محفوط کرنے کے لیے ہی کھیلا جا رہا ہے ۔ اس شرط کو مان لینے کے بعد پاکستان خلیج میں جاری بڑے کھیل میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گا ۔
ڈرامے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے انڈیا بظاہر اس معاہدے کے خلاف شور مچا رہا ہے تاکہ واقعی ایسا لگے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے حق میں ہے ۔ دورے کے اس اہم مقصد کو بھی خفیہ رکھا جا رہا ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ یہ پیشکش نواز شریف کو 2014 میں ہی ہاگو میں ہونے والے ایک نیوکلیر سمٹ میں کی گئی تھی جس کو اب عملی شکل دینے کی کوشش کی جائیگی۔
ایسی ہی پیشکش 2005/6 میں پرویز مشرف کو بھی کی گئی تھی جسے اس نے مسترد کر دیا تھا ۔۔
ویسے اچھی خبر یہ ہے کہ راحیل شریف نے ترکی کے اہم دورے سے واپس آتے ہیں آرام کرنے کے بجائے نواز شریف کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں شرکت کی ہے جو اسی دورے کے حوالے سے تھا


اجلاس میں کافی کچھ ڈسکس کیا گیا ہے ۔ اسی ڈسکشن کے نیتجے میں پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار جو اس وقت پاک فوج کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں نواز شریف کے وفد کا حصہ بن گئے ہیں




سنا ہے نواز شریف کا تاریخی استقبال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کے لیے ایک امریکی سینیٹر شیلا جیکشن نے باقاعدہ قرارد پیش کی ہے


نوٹ ۔۔۔ پاکستان کا نیوکلیر پروگرام اپنی ترقی کی معراج پر ہے جس کے لیے نہ پہلے ہمیں کسی کی ضرورت پڑی تھی نہ اب ہے ۔ نہ ہمیں نیوکلیر مواد کا لین دین کر کے چند لاکھ ڈالر کمانے ہیں ۔ اتنے تو ہماری پارلیمنٹ کی ایک دن کی تنخواہ ہے ۔
تحریر شاہدخان