ہم کس قدر نا شکرے ہیں
Name:  nishtar.jpg
Views: 239
Size:  53.8 KB
کل رات ایک مریض کے ساتھ نشتر ہسپتال ملتان کے ایمرجنسی وارڈ جانا ہوا. بہت عرصے کے بعد کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں گیا تھا. وہاں مجھے خوف لگنے لگا. ایک عجیب و غریب سا ماحول تھا. مجھے یہ نئی اور حیرت انگیز دنیا لگ رہی تھی. بظاہر میں ہشاش بشاش اور چاق و چوبند نظر آرہا تھا. مگر اندر سے ھنگامی مریضوں کی تشویش ناک صورت حال دیکھ کر دل کی دھڑکن رکتی محسوس ہو رہی تھی. روڈ ایکسیڈنٹ سے خون میں لت پت کچھ افراد وارڈ میں لائے گئے تو ان کی حالت دیکھ کر مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی. برین ہیمرج کے ایک مریض کے لواحقین دھاڑیں مار مار کر رو پیٹ رہے تھے. ایکسرے روم کے باہر ایک بچہ دیکھا جوگھر کی چھت گرنے سے زخمی ہو گیا تھا. معصوم بچے کی بازو کی ہڈی باہر نکلی نظر آرہی تھی. ڈینگی بخار کے کاونٹر پر بھی خاصا رش تھا. ہر چہرہ متفکر تھا اور مریضوں کے لواحقین بھی اس صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہے تھے. رات بارہ بجے کا وقت تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دن کا کوئی وقت ہو. قیامت کا سا منظر تھا. افراتفری اور نفسا نفسی کا عالم شاید اسی کو کہتے ہیں. کوئی ایکسرے روم، کوئی لیباٹری، کوئی انتقال خون اور کوئی آپریشن تھیٹر کی طرف بھاگ دوڑ میں مصروف تھا. اگلے لمحوں کی خیر مانگتے یہ لوگ خود کو بے بس سمجھ رہے تھے. انسان ہے بھی تو بے بس و مجبور. اس کا اندازہ بیمار پڑنے پر شدت سے ہوتا ہے. اگر کوئی آفت آ پڑے تو پھر اسے اپنا خالق و مالک بھی یاد آجاتا ہے. اس کی زبان ذکر سے تر بھی ہو جاتی ہے. اور اس کی امیدوں کا مرکز رب ہو جاتا ہے. مجھے ایمرجنسی وارڈ میں کسی چہرے پر مسکراہٹ نظر نہیں آئی. معالجین کی سنجیدگی و مستعدی قابل رشک تھی. ہر شعبے کے افراد تگ و دو میں دیکھے جو انسانی ھمدردی و خدمت کے جذبے سے سرشار تھے.
ان لمحات میں میں سوچنے لگا کہ ہم کتنے نا شکرے ہیں. صحت کی قدر سے واقف ہی نہیں. تندرستی کو ہزار نعمت خوامخواہ میں تو نہیں کہا گیا. واقعی انسان خسارے میں ہے. ہمیں ہر حال میں رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیئے.


مظہر صدیقی