Name:  Mehmood Ghaznavi 5.jpg
Views: 511
Size:  69.6 KB


ایک رات شاہ محمود غزنوی سو رھا تھا کہ یکایک اسکی آنکھ کھل گئی، پھر لاکھ چاہا کہ نیند آجائے مگر نیند کوسوں دور نکل چکی تھی، بستر پر تڑپتا اور کروٹیں بدلتا رھا، کسی طرح آنکھ نہ لگی تو خدا ترس بادشاہ کو خیال آیا کہ شائد کوئی مظلوم فریاد لایا ھے یا کوئی فقیر بھوکا آیا ھے، اس لئے نیند چٹ گئی ھے۔
غلام کو حکم دیا "باہر جاکر دیکھو کون آیا ھے " غلام نے باہر جاکر دیکھا کوئی نہيں تھا۔
واپس آکرکہا : جہاں پناه ! کوئی نہيں ھے۔
محمود غزنوی نے پھر سونے کا سوچا، مگر نہ آئی نہ آنی تھی، وہی بےچینی اور گھبراہٹ پیدا ھو گئی، غلاموں کو دوباره کہا "اچھی طرح دیکھو باہر کون آیا ھے "
غلام دوڑتے ہوئے گئے،
اِدھر اُدھر دیکھا اور واپس آکر بولے : حضور کوئی نہيں ھے۔
سلطان کو شبہ ھوا کہ شائد غلام تلاش کرنے سے جی چراتے ھیں ، غصہ میں خود کھڑا ھوا تلوار ہاتھ لئے باہر آگیا۔ بہت تلاش کی ، مگر کوئی شخص نظر نہيں آیا ،، قریب ہی ایک مسجد تھی، اسکے دروازے پر آکر اندر جھانکا تو آہستہ آہستہ رونے کی آواز آئی ،،، قریب پہنچ کر دیکھا تو ایک شخص فرش پر پڑا ھوا نظر آیا، اُس کا منہ زمین کیطرف تھا آنکھوں سے آنسو جاری تھے آہیں بھر رھا تھا اور چپکے چپکے کہہ رھا تھا
"سلطان کا دروازہ بند ھے تو کیا ،، سبحان کا دروازہ تو کھولا ھوا ھے ،، اگر محمود ولی سو رھا ھے تو حرج نہيں *،، معبود ازلی تو جاگ رھا ھے۔ "
محمود غزنوی یہ سن کر اسکے بالکل قریب پہنچ کر بولا محمود کی شکایت کیوں کرتا ھے ۔۔ وہ تو ساری رات تیری تلاش میں بےچین ھے، بتا تجھے کیا تکلیف ھے۔؟ کس نے ستایا ھے۔؟ کیوں اور کس عرض سے آیا ھے۔؟
یہ سن کر وہ شخص کھڑا ھوا اور پھوٹ پھوٹ کر روتا ھوا بولا :
حضور ! ایک درباری کے ہاتھوں ستایا ھوا ھوں۔ مگر اس کا نام نہيں جانتا ،، اُس نے میری عزت خاک میں ملا دی ،، آدھی رات مستی کے عالم میں میرے گھر آتا ھے اور میری شریک زندگی کی عصمت کو داغدار کرنے کی کوشش کرتا ھے ،،، اگر آپ نے اس تلوار کی آب سے اس داغ کو نہيں دھویا تو کل قیامت کے دن میرا ہاتھ ھوگا اور آپ کا گریبان ـ
یہ سن کر
محمود غزنوی کا چہرہ غصے سے سرخ ھوا ،، مذہبی اور شاہی حمیت کے جوش سے پسینہ آگیا ،، غصے سے کانپتی ہوئی آواز میں بولا : بتا اس وقت بھی وہ ملعون وہی ھوگا۔؟
اس شخص نے جواب دیا۔
اب تو بہت رات گزر چکی، شائد وہ چلا گیا ھو *، لیکن مجھے ڈر ھے کہ وہ پھر آئے گا۔
محمود غزنوی نے کہا۔:
اچھا اب تو جا جس دن اور جس وقت وہ آئے مجھے اطلاع کردو۔
اس شخص نے سلطان کو دعا دی اور رخصت ھو کر چلا ہی تھا کہ سلطان ٹھرنے کا حکم دیا ،، اور پہراداروں سے کہا۔
"دیکھو یہ جس وقت بھی آئے خواہ میں سوتا ھوں یا جاگتا ھوں اس سے مجھ تک پہنچا دو۔ "
وہ شخص اپنے گھر چلا گیا۔
تیسری رات شاہی محل کے دروازے پر پہنچا ،، پہراداروں نے انکی شکل دیکھتے ہی سلطان کی خدمت میں پہنچا دیا۔
سلطان جاگ رھا تھا تلوار لے کر اُٹھ کھڑا ھوا اور بولا : چلو رات کو شکار کرنے والی لومڑی تک مجھے لے چلو۔ یہ سن کر وہ شخص آگے ھوگیا اور سلطان پیچھے پیچھے روانہ ھوا۔
گھر پہنچ کر شخص نے وہ جگہ بتائی جہاں وہ ظالم شخص خزانے کا سانپ بنا ھوا سو رھا تھا۔
سلطان نے تلوار کا ایک بھر پور ہاتھ ایسا جمایا کہ انصاف کا لالہ زر کھل گیا۔ { ظالم شخص اپنی انجام تک پہنچ گیا }
اسکے بعد محمود غزنوی مڑا اور مظلوم صاحب خانہ کو بلا کر فرمایا۔ " اب تو مجھ سے خوش ھو "
یہ کہہ کر محمود نے مصلی منگوایا اور ایک طرف بچھا کر دو رکعت شکرانے کی نماز پڑھی۔
پھر اس شخص سے مخاطب ھو کر پوچھا۔ " گھر میں کچھ کھانے کو ھو تو لاؤ "
شخص نے کہا ایک غریب سلطان کی کیا خاطر کر سکتا ھے *،، جو کچھ ھے حاضر کرتا ھوں یہ کہہ کر دسترخوان ڈھونڈ کر سوکھی روٹی کے کچھ ٹکڑے لتے ہوئے آیا اور سلطان کے سامنے رکھ دیئے۔
سلطان نے اس رغبت اور شوق سے یہ ٹکڑے کھائے کہ شائد عمر بھر کوئی لذیذ غذا اسطرح نہ کھائی ھو گی۔
کھانے سے فارغ ھوکر اس شخص سے کہا ، معاف کرنا میں نے تمہیں کھانے کیلئے تکلیف دی۔ لیکن سنو !!
بات یہ ھے جس روز تم مجھے ملے اور اپنا دُکھڑا سنایا۔ اُس وقت میں نے قَسم کھائی تھی کہ جب تک اس خبیث کے سر کو اسکے شانے سے جدا کر کے تمہارے گھر کو پاک نہ کردوں گا ۔۔۔ تب تک رزق کو حرام سمجھوں گا۔
پھر دو رکعت شکرانہ پڑھی جس پر تم حیران ھو رہے ھونگے۔
لیکن سنو !!
اس شخص کے متعلق مجھے اندیشہ تھا کہ میرے بیٹوں میں سے کوئی ھو گا، میں اپنے دل میں کہتا تھا کہ میرے درباریوں اور مصاحبوں کو اتنی جُرات نہيں ھو سکتی کہ وہ میرے مزاج سے واقف ہوتے ہوئے ایسی حرکت کریں۔ میں جس قدر سوچتا گیا ، میرا یقین بڑھتا گیا کہ اتنی بڑی گستاخی کی ہمت صرف بادشاہ کی اولاد کو ھوسکتی ھے۔ کیونکہ یہ عام طور پر غرور کے نشے میں مست ہوتے ھیں۔
چنانچہ میں یہاں آپکے ساتھ اپنے کسی فرزند کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا۔ جب میں نے صورت دیکھی تو معلوم ھوا کہ یہ میرا فرزند نہيں، کوئی اور شخص ھے، اسلئے میں نے خدا کا شکر ادا کیا دو رکعت پڑکر۔
{ بحوالہ بزم رفتہ کی سچی کہانیاں }
101سبق آموز واقعات