زرا غور سے تصویر دیکھیے. کہ عید کا دوسرا دن تھا. میں ملتان سے فیصل اباد جانے کے لیے فیصل مورز میں سوار ھوا.کہ دروازے کے ساتھ ھوسٹس شدید بیماری کی حالت میں ایک ھاتھ میں بنولہ اور دوسرے ھاتھ پر پٹی باندھی ھوئی لیٹی تھی. اور شدید بخار چڑھی ھوئی تھی.. میں ابھی سیٹ پر بیھٹا ھوا تھا.. کہ ھوسٹس گڑ گڑا نے لگ گئی.. میرے سمیت سب کے نظر اسی ھوسٹس پر تھی. لیکن جب میرے سمیت سے نے بس انتظامیہ کی بے حسی دیکھی. تو سب اُٹھ کھڑے ھوگئے.. اور ہر ایک نے پانی وغیرہ اسکے اگے کردیا.. لیکن ھوسٹس کی بخار بے قابوں ھوچکا تھا.پہلے میں سمجھا تھا. کہ اسکوں بخار بس میں ہی چڑھا ھوگا.. لیکن مجھے تب خیرانگی ھوئی. کہ فیصل مورزو کی انتظامیہ نے اسے ھسپتال سے بلاکر لائی.. اور غربت کے مارے ھوسٹس نے اپنی نوکری بچانے کے لیے تپتے ھوئے بخار میں ڈیوٹی کرنی لگ گئی ----+ ھائے میرے رب! ھم کتنے بے حس ھوچکے ھیں.. میرے سینے میں اسکے متعلق بولنے کے لیے بہت کچھ ھے.. لیکن اس بے حس حکمرانوں اور ایسے ظالم طبقہ جو دولت کی ہوش میں سب کچھ بھول چکے ھیں.. انکے دل پھتر کے بن چکے ھیں. ان پر اثر نھیں ھونے والا ھے.




Name:  12046580_968883053184474_1235289614085471868_n.jpg
Views: 624
Size:  54.8 KB