Name:  1982020_695026360574797_4783578485210398820_n.jpg
Views: 33
Size:  60.8 KB


چھوٹی چھوٹی خواہشیں، چھوٹے چھوٹے لوگ : حنیف سمانا


توفیق کام سے فارغ ہو کر گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اسکی پکوڑے والے پر نظر پڑی جو گرما گرم پکوڑے تل رہا تھا..
اس نے اپنے کرتے کی دونوں جیبیں ٹٹولیں ...بڑی مشکل سے اس جیب سے اور اس جیب سے ریزگاری جمع کرکے اس نے پیسے گنے تو پتہ لگا نو روپے پچاس پیسے تھے....اسنے پکوڑے والے سے کہا
"استاد ! دس روپے کے پکوڑے دے دو..آٹھ آنے بعد میں لے لینا.."


پکوڑے والے نے ایک پرانا اخبار پھاڑ کر اس میں پکوڑے لپیٹ کے دے دئے...
گھر آکر اس نے اپنی بیوی مریم کو آواز لگائی ..
"ارے جلدی آجا...... گرما گرم پکوڑے لایا ہوں تیرے لئے..."


مریم بھاگتی ہوئی آئی...
اس نے ایک پکوڑا اٹھایا اور جلدی سے منہ میں رکھا...
پکوڑا اٹھاتے ہوئے اس کی نظر اس اخبار کی کسی خبر پر رک سی گئی...
جو پکوڑے کے ساتھ آیا تھا....
اس نے توفیق سے کہا .
"یہ دیکھو "


توفیق نے پوچھا . "کیا ہے؟"


مریم بولی . " ڈیفنس میں ایک آدمی نے پانچ لاکھ کے بیل کی قربانی کی "


"تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے ..."توفیق نے کہا "لوگوں نے تو لاکھوں روپے کی قربانی کی ہے "


"لاکھوں ؟" مریم کا منہ بن گیا ..."اتنا پیسہ آتا کہا سے ہے لوگوں کے پاس "


"اللہ دیتا ہے ..."توفیق بولا "اور کہاں سے آئے گا"


"تو تجھے اور مجھے اللہ کیوں نہیں دیتا ..." مریم پھٹ سے بولی ...ہم نے کیا گناہ کیا ہے...."


"ارے کیا پاگل ہوگئی ہے ...اول فول بک رہی ہے " توفیق غصے میں بولا " اس کی مرضی وہ جسے چاہے دے..جسے چاہے نہ دے...وہ کسی کا پابند تھوڑی ہے "


"دیکھ....... تو صبح سے رات تک فیکٹری میں گدھے کی طرح محنت کرتا ہے...."
مریم نے لہجہ بدل کے کہنا شروع کیا ..
" اور میں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ مانجھ کر تھک جاتی ہوں....
مگر ہم آج تک اس قابل نہیں ہوسکے کے اپنے بچے کے لئے پانچ سو روپے کا ایک پالنا خرید سکیں....
مہینے کی آخری تاریخوں میں تیری تنخواہ ختم ہو جاتی ہے اور تجھے بچے کے دودھ اور دوائی کے لئے بھی ایڈوانس اٹھانا پڑتا ہے....
اور ایک طرف اللہ ہے کہ ان لوگوں کو لاکھوں روپے دیتا ہے...
کیا تجھ سے زیادہ محنت کرتے ہیں وہ لوگ؟"


"محنت؟ ہونہہ ......." توفیق مصنوعی ہنسی ہنسا
" ایرکنڈیشنڈ دفتروں میں سوٹ ٹائی پہنے بیٹھے رہتے ہیں...."


"تو پھر ؟" مریم پھر غصے میں آ گئی " تو پھر ایسا کیوں ہے...اللہ انھیں کیوں دیتا ہے ...اور ہمیں کیوں نہیں ؟"


اب توفیق نے بھی اسے غصے سے دیکھا
" ارے باولی ہوئی ہے کیا ..اللہ کے بارے میں کچھ نہ کہنا...
مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ اتنی سی بات سے آدمی جہنمی ہو جاتا ہے...
تو مجھے بھی جہنمی بنوائے گی اور خود بھی بنے گی...
اب چپ چاپ پکوڑے کھا "
توفیق نے اپنے کان پکڑے ...
لیکن مریم آج کسی اور موڈ میں تھی...


" مجھے نہیں کھانے تیرے یہ پکوڑے...
اور اللہ ہمیں جہنم میں کیوں ڈالے گا...
ہم نے کس کا مال کھایا ہے...
کونسی چوری کی ہے ..
کونسا ڈاکہ ڈالا ہے...
تمہارا مولوی تو بکتا رہتا ہے....
اسے جو چندے کا...فطرے کا کھانے کو مل جاتا ہے...
تیری میری طرح محنت کر کے کما کے کھا کے دکھائے...
پھر جانوں ...
پھر اسے پتہ لگے کہ جہنم کیا ہوتا ہے....
"اسنے رونا شروع کر دیا....


توفیق نے جو اسے روتے ہوئے دیکھا تو اس کا دل بھی پسیج گیا....
اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ..
"دیکھ نیک بخت !
ہمیں یہاں اگر اچھی زندگی نہیں ملی ..
تو وہاں ملے گی....آخرت میں ...
وہاں جنت میں تیرے میرے محل ہوں گے..
گاڑیاں ہوں گی ...
بنگلے ہوں گے...
نوکر چاکر ہوں گے....."


"اچھا؟" مریم نے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا....
"تو سچ بولتا ہے؟"


"ہاں ...قسم سے .....میں نے کہیں پڑھا تھا...."توفیق بولا ...
"اور وہ جو تیری سیٹھانی ہے نا ..
رمضان صاحب کی بیوی ...
جس نے اس روز شیشے کی پلیٹ ٹوٹنے پر تجھے گالیاں دیں تھیں....
وہ جنت میرے تیرے بنگلے پر برتن مانجھے گی "


مریم کی آنکھوں میں چمک آئی..
وہ حیرت سے توفیق کو دیکھنے لگی
"تو بالکل سچ بولتا ہے؟"


"تیری قسم" توفیق بولا ...


"اگر ایسا ہوا نا ....
تو پھر میں اس رمضان کی بیوی کو مزہ چکھاؤں گی...
میں بھی اسے گالیاں دوں گی ...
حرام خور! صحیح طرح برتن دھو..."


مریم نے کمر پر ہاتھ رکھہ کر اپنی سیٹھانی کی نقل اتاری...
توفیق ہنس پڑا ...