زخم جگر بھی جاگ اٹھا تھا
درد بھی دل میں میرے سوا تھا


 


دریا کااحسان ہے مجھہ پر
وہ بھی میرے ساتھ بہا تھا

اس سے کتنی بات ہوئی تھی
جس نے مجھہ سے کچھہ نہ کہا تھا

بھول ہوئی تھی مجھہ سے سرزد
دل کا کہنا مان لیا تھا

میرا ہی ہمزاد تھا جس نے
دکھہ میں میرا ساتھہ دیا تھا


رابعہ اقبال رابی