تیری بارگاہ میں اے خدا ، جونہی سر کو میں نے جھکا دیا ،
اسی وقت تیری خدائی نے ، مجھے پستیوں سے اٹھا دیا
،
میں ذلیل تھا میں حقیر تھا ، تیرے در کا ایک فقیر تھا ،
تو نے ایک ہی سجدے میں ، مجھے کیا سے کیا بنا دیا ،

... رگ جان سے بھی تو قریب ہے ، تو ہی لکھتا سب کے نصیب ہے ،
جسے چاہا پل میں اٹھا دیا ، جسے چاہا پل میں گرا دیا ..